مضامین بشیر (جلد 2) — Page 979
۹۷۹ سے بستروں میں علیحدگی اختیار کر لو اور ( اگر یہ تدبیر بھی ناکام رہے تو ) تم انہیں مناسب جسمانی سزا بھی دے سکتے ہو۔پھر اگر اس کے بعد وہ سرکشی کا طریق چھوڑ کر فرمانبرداری کا رستہ اختیار کر لیں تو ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرو اور یاد رکھو کہ ( جس طرح تم اپنی عورتوں کے نگران اور محافظ ہو اسی طرح ) خدائے بلند و برتر تمہارا نگران و محافظ ہے ( پس تمہیں عدل وانصاف کی حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہئیے۔مضامین بشیر یہ وہ قرآنی آیت ہے جس میں عورتوں کی طرف سے نشوز ظاہر ہونے پر مردوں کو ان کی مناسب تادیب کا حق دیا گیا ہے جو انتہائی صورت میں ضرب کی حد تک پہنچ سکتا ہے۔اب ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ نشوز اور ضرب سے کیا مراد ہے۔پہلے ہم نشوز کے مفہوم کو لیتے ہیں۔سو جاننا چاہیئے کہ نشوز کے بنیادی معنے اونچا ہونے اور اپنے آپ کو بالا سمجھنے کے ہیں چنانچہ نشــز عــن مـكـانه کے معنی ہیں ارتفع وامتنع یعنی وہ اونچا ہو گیا اور اس کی وجہ سے دوسروں سے بھیچ گیا اور دور ہو گیا۔اور جب کسی عورت کے متعلق کہا جائے کہ نشزت الــمـــراة بزوجھا تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ استعمت عليه وا بغفۃ یعنی فلاں عورت اپنے خاوند کی نافرمان ہے اور اس سے نفرت کرتی ہے اور اس کے ساتھ بغض رکھتی ہے اور جب یہ کہا جائے کہ نشزت المراۃ علی زوجھا تو اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ عصبت عليه و اخرجت من طاعة ” یعنی فلاں عورت اپنے خاوند سے سرکش ہو کر اس کی اطاعت سے نکل گئی ہے ( نھایۃ ) اور نشوز المراة کے معنے ہیں بغضها الزوجها و رفع نفسها عن طاعته۔یعنی عورت کا اپنے خاوند کو نفرت اور بغض کی نظر سے دیکھنا اور اپنے آپ کو اس کی اطاعت سے بالا سمجھنا۔( مفردات راغب ) اس تشریح سے نشوز کے یہ تین معنی ثابت ہوتے ہیں :- (۱) خاوند کے مقابل پر اپنے آپ کو بڑا اور بالا سمجھنا۔(۲) خاوند کی نا فرمان ہو کر اس کی اطاعت سے نکل جانا اور اس کی حکومت کو تسلیم نہ کرنا۔(۳) خاوند کے ساتھ بغض رکھنا اور اسے نفرت کی نظر سے دیکھنا۔گویا قرآن شریف فرماتا ہے کہ جب ایک عورت کی طرف سے اپنے خاوند کے متعلق یہ تین حالتیں ظاہر ہوں یعنی وہ خاوند کے مقابل پر اپنے آپ کو بڑا سمجھے اور اس کی نافرمان ہو کر اس کی اطاعت سے نکل جائے اور اس کے ساتھ محبت اور احترام کی بجائے بغض اور نفرت کا سلوک کرے تو خاوند کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سب سے پہلے فعظو ھن کے ماتحت پند و نصیحت کے رنگ میں بیوی