مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 978 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 978

مضامین بشیر ۹۷۸ عورت کی طرف سے نشوز اور اس پر مرد کا حق تادیب بعض دوستوں نے مجھے کچھ سوالات لکھ کر بھیجے ہیں جن کا جواب باری باری لکھنے کی کوشش کروں گا کیونکہ آجکل مجھے در د نقرس کے علاوہ ٹیکی کا رڈیا یعنی نبض کی تیزی کا بھی عارضہ لاحق ہے اس لئے زیادہ توجہ جمانا مشکل ہے۔امید ہے کہ دوست میرے ان سرسری جو ابوں پر تسلی پانے کی کوشش کریں گے اور بہر حال ایسے جواب میں اتنا فائدہ تو ضرور ہوتا ہے کہ سوال کرنے والے اور پڑھنے والے کو اپنے دماغ پر بھی کچھ نہ کچھ بوجھ ڈالنا پڑتا ہے جو بہر صورت مفید ہے۔ربوہ سے صوفی خدا بخش صاحب لکھتے ہیں کہ یہ جو قرآن شریف میں آتا ہے کہ عورت کی طرف سے نشوز کی کیفیت ظاہر ہونے پر خاوند کو تادیب کا حق ہے جو ضرب یعنی جسمانی سزا کی صورت بھی اختیار کر سکتا ہے اس سے کیا مراد ہے؟ اور نشوز اور ضرب کی اسلامی تشریح کیا ہے؟ سواس کے جواب میں ہمیں سب سے پہلے اُس قرآنی آیت پر نظر ڈالنی چاہئے جس میں بعض حالات میں مرد کو عورت کی تادیب کا مندرجہ بالا حق دیا گیا ہے۔قرآن شریف فرماتا ہے :- الرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّلِمتُ قَنِتُتُ حفظتُ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظ الله وَالَّتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُ وهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ۱۱۵ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا BO یعنی مرد عورتوں پر نگران اور محافظ ہیں بوجہ اس ( جسمانی اور دماغی ) فضیلت کے جو خدا کے قانون کے مطابق بعض کو بعض پر (یعنی مردوں کو عورتوں پر ) حاصل ہے اور بوجہ اس کے کہ مرد اپنے مالوں میں سے عورتوں پر خرچ کرتے ہیں۔پس نیک عورتوں کو اپنے خاوندوں کا فرمانبردار رہنا چاہیے اور ان کی عزت اور ان کی اولاد اور ان کے مالوں کی ) غائبانہ حفاظت کرنی چاہئے تمام ان ذرائع کے ساتھ جو خدا تعالیٰ نے حفاظت کے لئے مقرر کر رکھے ہیں اور وہ عورتیں جن کی نافرمانی اور سرکشی کی وجہ سے تمہیں اپنی اہلی زندگی کے متعلق خوف لاحق ہو تمہیں چاہیے کہ انہیں پند و نصیحت سے سمجھاؤ اور (اگر یہ طریق کارگر نہ ہو تو کچھ عرصہ کے لئے ) ان -