مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 980 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 980

مضامین بشیر ۹۸۰ کو سمجھا کر اور خدا اور رسول کی باتیں بتا کر اور گھر کے امن کی قدر و قیمت جتا کر اصلاح کی کوشش کرے لیکن اگر یہ کوشش ناکام رہے تو پھر دوسرے مرحله پروه و اهجروهن في المضاجع پرعمل کرتے ہوئے بیوی سے گھر میں کنارہ کشی اختیار کر لے اور اسے اپنے بستر کا ساتھی نہ بنائے مگر جیسا کہ حدیث میں صراحت آتی ہے اور قرآنی الفاظ میں بھی اس کا اشارہ ملتا ہے اس صورت میں بھی بیوی کو گھر سے ہرگز نہ نکالے بلکہ اسے گھر میں رکھتے ہوئے عملی علیحدگی کی سزا دے اور ویسے بھی دیکھا جائے تو اس سزا کی اہمیت اور اس کی نفسیاتی تاثیر گھر میں رہتے ہوئے ہی زیادہ ظاہر ہوسکتی ہے لیکن اگر خدانخواستہ یہ تدبیر بھی کارگر نہ ہو تو پھر تیسرے مرحلہ پر قرآن شریف اجازت دیتا ہے وَاضْرِبُوهُنَّ یعنی تم ایسی عورتوں کو جن پر نہ تو کوئی نصیحت ہی اثر کرے اور نہ ھجر فی المضاجع کا نسخہ ہی کارگر ثابت ہو مناسب جسمانی سزا بھی دے سکتے ہو۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جسمانی سزا جسے قرآن نے ضرب کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے اس سے کیا مراد ہے۔سولغت کی رو سے تو ضرب کے معنی مطلقاً مارنے کے ہیں۔خواہ ہاتھ سے مارا جائے یا کہ چھڑی وغیرہ سے سزا دی جائے اور خواہ نرم چوٹ لگائی جائے یا کہ سختی سے مارا جائے لیکن حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق ایسی واضح اور منصفانہ بلکہ مشفقانہ شرطیں لگا دی ہیں کہ نہ تو یہ تعلیم ظالم مردوں کے لئے ظلم کا بہانہ بن سکتی ہے اور نہ ہی وہ شریف اور سمجھدار عورتوں کی نظر میں قابل اعتراض خیال کی جا سکتی ہے۔مثلاً ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر فرمایا کہ: الا واستوصوا بالنساء خيراً فا نما هن عرانٍ عند كم۔۔۔إلا ان ياتين بفاحشة مبينة فان فعلن فاهجروهن فى المضاجع - 112 واضربوهن غير مبرح د یعنی اے مسلمانو ! عورتوں کے متعلق میری نصیحت کو مانو اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ وہ تمہارے ہاتھوں میں ایک امانت ہیں۔۔۔سوائے اس کے کہ وہ کھلی کھلی بدی اور بے حیائی کا طریق اختیار کریں۔اس صورت میں (اگر ان پر تمہاری نصیحت کا رگر نہ ہو ) تو اولاً ان کے ساتھ بستروں میں علیحدگی اختیار کرو اور اگر یہ تدبیر بھی کامیاب نہ ہو تو تم ایسی سرکش عورتوں کو جسمانی سزا بھی دے سکتے ہو مگر یہ سز اسخت اور جسم پر نشان ڈالنے والی نہیں ہونی چاہئیے اس حدیث میں جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر گویا اپنی آخری وصیت 66