مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 915 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 915

۹۱۵ مضامین بشیر قادیان سے بھاگنے والے کی عبرتناک حالت درویشوں کے رشتہ دار بھی کان دھریں کچھ عرصہ ہوا جب کہ پرمٹ کی پابندی نہیں تھی قادیان کا ایک درویش اپنے رشتہ داروں کی نا واجب کشش اور بعض دنیا داری کے خیالات کے ماتحت قادیان سے بلا اجازت بھاگ گیا تھا۔اسے اخراج از جماعت اور مقاطعہ کی سزا دی گئی اور اس کے علاوہ خدا کی طرف سے بھی اسے یہاں آکر اس قسم کے مصائب و آلام کا سامنا ہوا کہ اس کی حالت حقیقۂ عبرت ناک ہو چکی ہے۔اس کی معافی کی درخواست پر حضرت امیر المؤمنین خلیفتہ اسیح ایدہ اللہ نے جو فیصلہ صادر فرمایا ہے وہ با وجود میری رخصت کے مجھے بھی اطلاع کی غرض سے لاہور میں پہنچا ہے اور میں نے اس پر قادیان کے دوستوں کو جو پرائیویٹ خط لکھا ہے وہ درویشوں کے رشتہ داروں کی اطلاع اور ہدایت کی غرض سے الفضل میں شائع کرا رہا ہوں۔دراصل یہ زیادہ تر درویشوں کے بعض رشتہ دار ہی ہیں جو اپنے عزیز درویشوں کو تسلی اور ہمت افزائی کے خطوط لکھنے کی بجائے انہیں پریشانی کی اطلاعیں بھجواتے رہتے ہیں بلکہ جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے بعض اوقات ان اطلاعوں میں مبالغہ سے بھی کام لیتے ہیں جس کا اثر طبعاً کمزور طبیعت کے درویشوں پر پڑتا ہے اور ان میں بھی پریشانی اور بے چینی کی کیفیت پیدا ہو نے لگتی ہے۔بے شک بعض درویشوں کے عزیزوں کو کافی مشکلات ہیں لیکن آخر خدائی جماعتیں بھی مشکلات میں سے گزرنے کے بعد ہی پروان چڑھا کرتی ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ درویشوں کے رشتہ دار اور مقامی جماعتوں کے امراء اور صدر صاحبان اس خط کو جو حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ کے اہم ارشاد پر مبنی ہے ، غور سے پڑھ کر اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کے ساتھ ہو اور حافظ وا میں رہے۔آمین۔خط ذیل میں درج ہے۔خاکسار مرزا بشیر احمد رتن باغ لاہور۔بخدمت جناب بزرگان احباب و عزیزان قادیان السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ آپ صاحبان کو ایک واقعہ کی اطلاع دینا ضروری خیال کرتا ہوں جس کا میری طبیعت پر بہت بھاری اثر ہے۔میری دعا ہے کہ خدا تعالیٰ اس قسم کے واقعات سے ہم سب کو بچائے اور جس طرح