مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 916 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 916

مضامین بشیر ۹۱۶ اس نے ہمیں اولاً احمدیت کی نعمت عطا کی ہے اسی طرح آخر تک ہم پر اپنے فضل و رحمت کا سایہ رکھے اور ہمارا خاتمہ بخیر ہو۔و استغفر الله ربي من كل ذنب و اتوب اليه۔آپ سب میاں عبدالکریم سکنہ تر گڑی کو جانتے ہیں جو اپنے آپ کو خدمتِ سلسلہ کے لئے پیش کر کے بخوشی قادیان گیالیکن قادیان جانے کے کچھ عرصہ بعد اس کے دل میں اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی جدائی کا خیال اور اس کے ساتھ ہی اپنے بعض دنیوی کاموں کی کشش کا احساس پیدا ہونا شروع ہوا اور اس نے پاکستان واپس آنے کی خواہش ظاہر کی اور جب اسے اُس وقت کے حالات کے ماتحت اس کی اجازت نہ ملی تو اسے شیطان نے ورغلایا کہ بلا اجازت قادیان سے بھاگ جائے۔چنانچہ وہ موقع پا کر وہاں سے چوری بھاگ نکلا اور پاکستان پہنچ گیا۔اس طرح اسے ایک وقتی خوشی جو ہمیشہ شیطانی تحریکوں کو قبول کرنے سے ہوا کرتی ہے، حاصل ہوئی لیکن اس کے بعد ا سے خدائی تقدیر نے پکڑا اور وہ طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا ہو کر خدائی گرفت کا ایک عبرتناک نمونہ بن گیا اور خود اس کا اپنا بیان ہے کہ اس کا تمام کا روبار تباہ ہو گیا اور وہ دنیا جس کے لئے اس نے بھاگنے کا رستہ اختیار کیا تھا خاک میں مل گئی اور اس پر اور اس کے رشتہ داروں پر جن کی کشش اور تحریک نے اسے اس حرکت پر آمادہ کیا تھا اس طرح اوپر تلے بیماریاں اور مصیبتیں آئیں کہ اس کے لئے زندگی بالکل اجیرن ہو گئی اور خود اس کے ضمیر نے بھی اس کے دل کو اس طرح ڈسنا شروع کیا کہ وہ جیتے جی زندہ درگور ہو گیا۔میں آپ لوگوں کے سامنے خدا کو حاضر و ناظر جان کر شہادت دیتا ہوں کہ جب وہ چند ماہ ہوئے ان مصائب کے چکر میں پڑنے کے بعد ایک دن میرے پاس لاہور آیا تو میں نے اسے پہچانا تک نہیں اور میں نے بس خیال کیا کہ گویا اس وقت میرے پاس ایک انسان نہیں بکہ کسی قبر سے نکلے ہوئے شخص کا بھوت کھڑا ہو۔اس کے چہرے سے وحشت ٹپکتی تھی۔اس کی آنکھیں پھٹی پھٹی اور اس طرح خشک اور بے نور تھیں کہ جیسے قدرت نے اسے آنسو بہانے تک کی تسلی سے محروم کر دیا ہو۔جب اس نے رکتے رکتے مجھے اپنا نام اور پتہ بتایا تو میرے جذبہ رحم کے باوجود میرے دل سے یہ آواز اٹھی کہ اس شخص نے جماعت کے ایک ناز کی ترین زمانے میں سلسلہ سے غداری کی جس پر خدا کی خاموش لاٹھی نے اُسے مردوں سے بدتر بنا رکھا ہے اور جس زندگی کی طرف وہ اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر لپکا تھا، وہ زندگی اس سے دور بھاگ رہی ہے۔یہ ایک نظارہ تھا جو میری آنکھوں کے سامنے آیا اور گزر گیا۔گواب تک میری آنکھیں اس کے تصور سے گھبراتی ہیں مگر میں نے اس کی حالت سے متاثر ہو کر اسے کہا کہ تم نے بھاری غلطی کی بڑی بھاری غلطی۔اور ایسے نازک زمانہ میں سلسلہ کی غداری کا داغ لیا کہ جس سے زیادہ نازک زمانہ خیال