مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 913 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 913

۹۱۳ مضامین بشیر جس کے ماتحت یہ سارا کارخانہ عالم چل رہا ہے وہی وہ قدر خیر وشر ہے جس پر اسلام ہمیں ایمان لانے کا حکم دیتا ہے تا کہ ہم تو حید کے کامل مقام پر قائم رہیں۔(۲) جو نظام بعض حصوں میں جبری ہے اور بعض میں اختیاری ہے اس لئے انسان کے اعمال کا حقیقی مواز نه صرف خدا ہی کر سکتا ہے جو ہر قسم کے حالات کا واقف اور ہر قسم کے غیب کا عالم ہے۔(۳) تقدیر دو قسم کی ہے ایک تقدیر عام یعنی تقدیر معلق اور دوسرے تقدیر خاص یعنی تقدیر مبرم۔تقدیر عام دنیا کے اس عام قانون قضاء وقدر کا نام ہے جو حالات پیش آمدہ کے ساتھ مشروط ہوتا ہے اور حالات کے بدلنے سے بدل جاتا ہے اور ہم وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ایک بیمار صحیح علاج میسر آنے سے بچ سکتا تھا مگر اس کے مقابل پر تقدیر مبرم خدا کی وہ اٹل تقدیر ہوتی ہے جو ہر حال میں لازماً مقدر نتیجہ پیدا کرتی ہے۔یہ تقدیر عموماً نبیوں اور رسولوں کے زمانہ میں معجزات کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔(۴) خدا کے عالم الغیب ہونے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہر چیز کا انجام بہر حال اسی صورت میں مقدر ہے جس صورت میں کہ وہ عملاً ظاہر ہوتا ہے اور کسی طرح بدل نہیں سکتا۔کیونکہ حق یہ ہے کہ خدا کا علم انجام پیدا نہیں کرتا۔بلکہ انجام کی وجہ سے علم پیدا ہوتا ہے اور ان دونوں باتوں میں بھاری فرق ہے۔(۵) یہ اعتراض بالکل باطل ہے کہ بعض اوقات ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ایک نیک انسان مصیبت کی زندگی اٹھا کر یا اپنے غیروں کو دکھ میں مبتلا کر کے جوانی میں ہی مرجاتا ہے مگر ایک بد انسان لمبی عمر پا کر مرنے کی زندگی بسر کرتا ہے۔یہ اعتراض اس بات کے نہ سمجھنے سے پیدا ہوتا ہے کہ قضاء وقدر کے قانون اور شریعت کے قانون کا دائرہ بالکل علیحدہ علیحدہ ہے اور وہ ایک دوسرے میں دخل انداز نہیں ہوتے۔یہی وجہ ہے کہ قانون شریعت کی نیکی کسی شخص کو قضاء وقدر کے قانون کے نتیجہ سے نہیں بچا سکتی اور نہ قانون قضاء وقدر کی پابندی کسی شخص کو قانون شریعت کی نعمتوں کا وارث بنا سکتی ہے کیونکہ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لا يَبْغِينِ یہ مضمون بہت لمبا اور کسی قدر پیچدار بھی ہے مگر میں نے اسے اپنی طرف سے نہایت مختصر الفاظ میں سادہ طریق پر بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔خدا کرے کہ میرا یہ نوٹ ناظرین کی راہنمائی اور عملی تنویر کا موجب ہو اور اگر میری کوئی غلطی ہے تو خدا مجھے ہدایت نصیب کرے آمین۔واخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمين ( مطبوعه الفضل ۸/اگست ۱۹۵۰ء)