مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 912 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 912

مضامین بشیر ۹۱۲ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ فلاں نیک اور خوش سیرت انسان نہایت درجہ قابل رحم حالات میں جوان مرگ فوت ہو گیا مگر اس کے مقابل پر ایک بے دین اور بد اخلاق انسان لمبی عمر پا کر زندگی کے مزے لوٹ رہا ہے۔سو اس کے جواب میں یا د رکھنا چاہئے کہ خدا نے دنیا میں دو علیحدہ علیحدہ قانون جاری کئے ہیں۔ایک قضاء وقد ر کا قانون ہے جو مادیت کے میدان میں تقدیر عام سے تعلق رکھتا ہے جس کی جزا سزا اسی دنیا میں ساتھ ساتھ جاری رہتی ہے اور اسی دنیا میں اس کے نتائج ختم ہو جاتے ہیں اور دوسرا قانون شریعت کا قانون بیجو اخلاقیات اور روحانیت سے متعلق ہے جس کے حقیقی نتائج کے ظہور کے لئے اگلی زندگی اور اگلا جہان مقرر ہے اور خدا کی حکمت ازلی نے ان دونو قانون کے میدانِ عمل کو ایک دوسرے سے بالکل جدا اور آزاد رکھا ہے۔اگر کوئی شخص قضاء وقدر کے قانون کے ماتحت کوئی غلطی کرے تو اسے قانون قضاء و قدر کے مطابق سزا ملتی ہے اور اگر کوئی شخص قانون شریعت کے ماتحت کوئی غلطی کرے تو اسے قانونِ شریعت کے مطابق سزا ملتی ہے اور ایسا نہیں ہوتا کہ غلطی تو قضا و قدر کے قانون کے ماتحت ہوا ور سزا قانون شریعت کے مطابق دی جائے یا غلطی تو قانون شریعت کی ہو اور سزا قانون قضاء وقدر کے مطابق ملے۔گویا خدا کی مرکزی حکومت کے ماتحت یہ دوجدا جدا صوبائی حکومتیں قائم ہیں جن کو خدا کی حکمت ازلی نے پرونشل ایٹا نومی دے کر ایک دوسرے سے آزاد رکھا ہوا ہے۔اس لئے اگر ایک نیک آدمی بھی قضاء وقدر کا کوئی قانون توڑے گا مثلا کوئی ثقیل چیز کھالے گا تو اس کے پیٹ میں لازماً درد ہو گا اور قانون شریعت کی نیکی اسے اس درد سے ہرگز بچا نہیں سگے گی۔اسی طرح اگر کوئی بد آدمی قضاء وقدر کے قانون کا فرمانبردار رہے گا تو اسے قانون شریعت کا جرم قانون قضاء و قدر کی نعمتوں سے ہرگز محروم نہیں کر سکے گا (سوائے مستثنیات کے جن کا اصول جدا گانہ ہے ) پس اگر کوئی نیک انسان کسی بیماری یا حادثہ کی وجہ سے جوانی کی موت مر جاتا ہے تو یہ ایک قضاء وقدر کا عام حادثہ سمجھا جائے گا جس میں قانون شریعت کی نیکی کا کوئی اثر یا تعلق نہیں ہوگا اور نہ یہ نیکی اسے اس حادثہ سے بچا سکے گی۔اس کے مقابل پر اگر ایک بد انسان قضاء و قدر کے میدان میں کسی غلطی کا مرتکب نہیں ہوتا اور قوانین صحت کی پابندی اختیار کرتا ہے تو وہ لمبی عمر پالے گا اور شریعت کے میدان کا جرم اسے قضاء و قدر کی نعمت سے محروم نہیں کر سکے گا۔یہی خدائے حکیم وعلیم کی سنت ہے وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلًا۔الغرض تقدیر کا مسئلہ اسلام کے اہم ترین مسائل میں سے ہے جو بظاہر سادہ مگر حقیقہ کافی پیچدار ہے اور اس کا اصولی خلاصہ ذیل کے چند فقروں میں آجاتا ہے: (۱) جو نظام قانون قدرت یعنی قانونِ قضاء وقدر کی صورت میں خدا نے قائم کر رکھا ہے اور