مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 895 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 895

۸۹۵ مضامین بشیر با با حسن محمد صاحب نے قریباً اپنی ساری عمر وعظ و نصیحت اور قرآن شریف پڑھنے پڑھانے میں گزاری اور ان کے وعظ کا طریق بھی ایسا دلکش ہوتا تھا کہ سننے والے دیہاتی لوگ اس سے بہت محظوظ ہوتے اور فائدہ اٹھاتے تھے اور میرے خیال میں ان سے غالباً سینکڑوں عورتوں نے قرآن شریف پڑھا اور دینی مسائل سیکھے ہوں گے حتی کہ جب وہ آخری ایام میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کے حکم سے چنیوٹ میں مقیم ہوئے تو کئی غیر احمدی عورتیں بھی ان کے درس میں شامل ہوتی تھیں اور میں نے سنا ہے کہ وہ ان کی وفات پر اس طرح روتی تھیں جس طرح ایک نیک اور شفیق باپ کی موت پر سعادت مند بچے روتے ہیں۔لیکن غالباً بابا صاحب مرحوم کا سب سے بڑا امتیاز یہ تھا کہ انہیں موصیوں میں سے موصی نمبر ا حاصل ہونے کا شرف حاصل ہوا۔کیونکہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۹۰۶ء کے شروع میں رسالہ الوصیت لکھ کر وصیت کی تحریک فرمائی تو اس تحریک پر سب سے اول نمبر پر لبیک کہنے والے بابا حسن محمد صاحب مرحوم ہی تھے اور ان کی وصیت کا نمبر 1 درج ہوا اور دوسرا امتیاز ان کا یہ ہے کہ ان کے اکلوتے فرزند مولوی رحمت علی صاحب کو سمندر پار فریضہ تبلیغ ادا کرنے کا سب دوسرے مبلغوں سے زیادہ لمبا موقعہ ملا ہے کیونکہ انہوں نے غالباً پچیس سال سے زیادہ جاوا سماٹرا میں تبلیغ کی سعادت حاصل کی ہے اور ظاہر ہے کہ اولاد کی نیکی میں مومن باپ کا بھی ضرور حصہ ہوتا ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ بابا صاحب مرحوم کو اپنے خاص فضل و رحمت کے سایہ میں جگہ دے اور ان کی اولاد کا حافظ و ناصر ہو۔( مطبوعہ الفضل ۲۵؍ جولائی ۱۹۵۰ء)