مضامین بشیر (جلد 2) — Page 894
مضامین بشیر ۸۹۴ موصی نمبر ا با با حسن محمد صاحب بھی چل بسے ربوہ سے اطلاع ملی ہے کہ بابا حسن محمد صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے صحابی تھے ، بروز جمعرات بوقت سات بجے شام بھمر اسی سال وفات پا گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔بابا صاحب مرحوم اوجلہ ضلع گورداسپور کے رہنے والے تھے اور صحابیوں کی ایک خاص پارٹی کے رکن تھے جو چھ مخلصین مشتمل تھی یعنی ایک تو بابا صاحب مرحوم کے قریبی عزیز میاں عبدالعزیز صاحب مرحوم اور دوسرے سیکھواں متصل قادیان کے تین مشہور و معروف بھائی یعنی میاں جمال الدین صاحب مرحوم اور میاں امام دین صاحب مرحوم اور میاں خیر دین صاحب مرحوم ان چھ بزرگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر اوائل زمانہ میں ہی بیعت کی اور پھر آخر تک بیعت کے عہد کو نہایت اخلاص اور استقلال کے ساتھ نبھایا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ان کا قادیان میں آنا جانا بھی اکثر اکٹھا ہوا کرتا تھا۔ان میں سے میاں عبدالعزیز صاحب مرحوم نے ایک رات قیام گورداسپور کے دوران میں جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیمار تھے ، حضور کی اس رنگ میں خدمت کی اور ساری رات اس طرح جاگ کر کاٹی کہ بعد میں حضور نے ان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ خدا کا ہم پر کتنا فضل ہے کہ حضرت عیسی صلیب کے واقعہ پر اپنے حواریوں کو بار بار دعا کے لئے جگاتے تھے اور وہ پھر بھی بار بار سو جاتے تھے مگر ہم نے منشی عبد العزیز صاحب کو بار بار سونے کے لئے کہا مگر وہ پھر بھی اپنے اخلاص میں ایک منٹ کے لئے بھی نہیں سوئے اور ساری رات خدمت میں لگے رہے۔بہر حال با با حسن محمد صاحب مرحوم مولوی رحمت علی صاحب مبلغ جاوا کے والد تھے۔اس مقدس شش ممبر پارٹی کے رکن تھے جنہوں نے اوائل میں ہی احمدیت سے مشرف ہونے کی سعادت پائی اور پھر ان کی زندگی کا ہر نیا دن انہیں خدا سے قریب تر کرتا گیا افسوس کہ ایسے مخلص صحابیوں سے ہماری جماعت بڑی سرعت کے ساتھ محروم ہوتی جا رہی ہے اور نئی پود میں سے اکثر نے ابھی تک وہ درسِ وفا نہیں سیکھا جس کے بغیر خدائی جماعتیں دنیا پر چھا نہیں سکتیں۔