مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 896 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 896

مضامین بشیر ۸۹۶ حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی صحت اور درازی عمر کی دعائیں بعض وجود دوسروں کی نسبت بہت زیادہ دعاؤں کے حقدار ہوتے ہیں حضرت امیر المؤمنین خلیفہ المسح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی بیماری کے اعلان کے نتیجہ میں جماعت کے اندر دعاؤں اور صدقہ و خیرات کی ایک عام تحریک پائی جاتی ہے جو یقیناً ایک بہت خوشکن علامت ہے۔کیونکہ مومنوں کی دردمندانہ دعا ئیں کبھی ضائع نہیں جاتیں اور کسی نہ کسی رنگ میں ضرور با برکت نتیجہ پیدا کرتی ہیں اور ظاہر ہے کہ صدقہ و خیرات بھی رد بلا اور ردّ قضا کا ایک بہت آزمودہ نسخہ ہے لیکن ضروری ہے کہ دعاؤں اور صدقہ و خیرات کا سلسلہ محض ایک وقتی ابال نہ ثابت ہو بلکہ ان خاص دعاؤں کے سلسلہ کو معقول عرصہ تک جاری رکھنا چاہیے اور دراصل امام کے متعلق دعائیں کرنا تو مومنوں کے ان اہم فرائض میں شامل ہے جس کی طرف سے انہیں کسی وقت بھی غافل نہیں ہونا چاہیے بلکہ حق یہ ہے کہ جو شخص ایک الہی جماعت میں شامل ہو کر پھر جماعت کی مضبوطی اور ترقی اور امام جماعت کی درازی عمر اور اس کے کاموں میں برکت اور فضل و رحمت کی دعاؤں کو اپنا روزانہ وظیفہ نہیں بنا تا وہ یقیناً سچا مومن کہلانے کا حقدار نہیں۔پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امام امام میں بھی فرق ہوتا ہے اور اسی حقیقت کی طرف یہ قرآنی آیت اشارہ کرتی ہے کہ: تِلكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ۔۵۱ د یعنی خدا فرماتا ہے کہ گوسب رسول رسول ہونے میں برابر ہیں مگر درجہ کے لحاظ سے ہم نے بعض رسولوں کو بعض دوسرے رسولوں پر فضیلت دی ہے“ اب ظاہر ہے کہ خدائی فضیلت کا اس کے سوا کیا مطلب ہو سکتا ہے کہ بعض رسول دوسرے رسولوں کی نسبت خدا کے زیادہ مقرب اور خدائی نصرتوں کے زیادہ جاذب ہوتے ہیں اور لازماً جو اصول رسولوں کے متعلق پایا جاتا ہے وہی خلفاء اور دیگر اماموں بلکہ عام مومنوں کے تعلق میں بھی