مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 883 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 883

۸۸۳ مضامین بشیر رویت ہلال کا انوکھا طریق اسلام نے ان معاملات میں عوام الناس کی سہولت پر بنیاد رکھی ہے سابقہ سالوں کی طرح اس سال بھی میں ارادہ رکھتا تھا کہ انشاء اللہ رمضان کی برکات کے متعلق دوستوں کے فائدہ کے لئے ایک مضمون لکھ کر شائع کروں گا لیکن رمضان سے ایک ہفتہ پہلے بیماری نے اس طرح پکڑا کہ کسی مضمون کے ذریعہ دوسروں کو فائدہ پہنچانا تو در کنار خود بھی روزوں سے محروم ہوا جاتا ہوں۔مسلسل بخار اور انتڑیوں کی سوزش اور جگر کے بڑھ جانے نے نڈھال کر رکھا ہے۔اس لئے اپنے اس ارادہ کو پورا نہیں کر سکا۔احباب سے دُعا کی درخواست ہے۔لیکن اس رمضان کے شروع میں ایک ایسی بات پیش آئی ہے جس نے مجھے یہ مختصر نوٹ املا کرانے پر مجبور کر دیا ہے۔جیسا کہ اخبار پڑھنے والے دوستوں کو معلوم ہو گا۔اس سال گو پنجاب میں اتوار یعنی ۱۸ جون ۱۹۵۰ ء کو پہلا روزہ رکھا گیا ہے لیکن جیسا کہ پاکستان ٹائمنر وغیرہ میں چھپا ہے کراچی میں ہفتہ یعنی ۷ ا جون سے پہلی رات کو چاند دیکھا گیا اور اس تاریخ کو وہاں پہلا روزہ ہوا۔خیر اس قسم کے اختلاف تو مطلع کے اختلاف کے نتیجہ میں بھی ہو جایا کرتے ہیں لیکن کراچی میں چاند دیکھنے کا جو طریق بیان کیا گیا ہے وہ بالکل انوکھا اور غالبا اسلام کی تاریخ میں اس قسم کی پہلی مثال ہے کیونکہ جیسا کہ اخباروں میں چھپا ہے کراچی میں جمعہ کی شام کو علماء کی ایک پارٹی ہوائی جہاز میں بیٹھ کر فضا میں بلند ہوئی اور جب تک چاند نظر نہیں آیا۔( کیونکہ اس وقت قریب کی فضا میں بادل تھے۔) پارٹی بلند سے بلند تر ہوتی گئی۔حتی کہ وہ پندرہ ہزار فٹ کی بلندی پر پہنچ گئی۔اس بلندی پر پہنچ کر سب جہاز کے پائیلٹ نے جہاز کے دیدیان میں سے جھانک کر ہلال کو دیکھا اور اس کے بعد اس کی دعوت پر علماء کی اس پارٹی کے ایک ایک فرد نے اس کی جگہ لے کر چاند کی زیارت کی اور پھر زمین پر اتر کر رمضان المبارک کا اعلان کر دیا گیا۔بظاہر یہ طریق ایک نیا علمی طریق ہے اور غالباً اس سے پہلے کسی اسلامی ملک میں اس طریق کو اختیار نہیں کیا گیا اور شائد اکثر لوگ اس خبر کو پڑھ کر خوش بھی ہوئے ہوں گے کہ اس نئی ایجاد نے ہلال بینی کی مشکل کو حل کر دیا ہے۔مگر جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ طریق اسلامی منشاء کے خلاف ہے۔کیونکہ ۴۵