مضامین بشیر (جلد 2) — Page 847
۸۴۷ مضامین بشیر (۷) یہ سب فرقے عقائد اور عمل میں بعض اختلافات رکھنے کے باوجود خدا کی تو حید کے بنیادی عقیدہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور ختم نبوت اور قرآنی شریعت کے آخری اور عالمگیر ہونے کے متعلق اصولاً متحد و متفق ہیں۔(۸) اشاعت دین کے لحاظ سے احمد یہ جماعت کے تبلیغی مراکز دنیا کے بیشتر حصوں میں قائم ہیں مثلاً انگلستان - فرانس۔جرمنی۔سپین۔سوئٹزرلینڈ۔ہالینڈ۔شام و لبنان۔مشرقی افریقہ۔مغربی افریقہ۔ماریشس۔ہندوستان۔ملایا۔جاوا سماٹرا۔ریاستہائے متحدہ امریکہ وغیرہ وغیرہ اور اس جماعت کا مذہبی اور تبلیغی لٹریچر بھی ساری دنیا میں کثرت سے پھیلایا جا رہا ہے۔(۹) اسلامی شریعت دو حصوں میں منقسم ہے ایک تو اس کا اصولی اور ٹھوس حصہ ہے جسے قرآن شریف محکمات کے لفظ سے یاد فرماتا ہے یہ حصہ غیر مبدل ابدی صداقتوں پر مشتمل ہے جس پر حالات کے تغیر کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔دوسرا حصہ لچکدار ہے جس کے متعلق قرآن شریف متشابہات کی اصطلاح قائم فرماتا ہے یعنی ایسے احکام جو مختلف قسم کے حالات میں ملتی جلتی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔چکدار حصہ ایک روحانی عالم کا رنگ رکھتا ہے جس طرح کہ یہ دنیا ایک مادی عالم کا رنگ رکھتی ہے اور بعینہ جس طرح آدم کے وقت کی مادی دنیا پرانی دنیا ہونے کے باوجود اپنی جدید تحقیقاتوں اور ایجادوں کے ذریعہ موجودہ زمانہ کی ساری مادی ضروریات کو پورا کر رہی ہے۔اسی طرح اسلامی شریعت کا یہ لچکدار حصہ بھی جدید تحقیق اور تفقہ کے نتیجہ میں اس زمانہ کے نئے نئے مسائل کا تسلی بخش حل پیش کرتا ہے۔مگر ضروری ہے کہ اس لچکدار حصہ کی تشریح اور توضیح کے لئے محکمات کی شمع ہر وقت ساتھ رہے۔(۱۰) کمیونزم اور کیپٹلزم کو پاکستان میں کوئی مقام حاصل نہیں اور نہ کسی اسلامی حکومت میں حاصل ہوسکتا ہے کیونکہ اول تو اسلام کا اخوت اور مساوات کا اصولی نظر یہ اشتراکیت پر اسی طرح دروازہ بند کر رہا ہے جس طرح کہ وہ سرمایہ داری پر بند کرتا ہے۔دوسرے جہاں ایک طرف اسلام انفرادی حق ملکیت کو تسلیم کرتا ہے وہاں دوسری طرف وہ دولت کو مناسب طور پر سمونے کے لئے ایک مؤثر مشینری بھی قائم فرماتا ہے۔یہ دونوں باتیں اسلام کو نہ صرف کمیونزم اور سرمایہ داری کے حملہ کے خلاف محفوظ کر رہی ہیں بلکہ اس کے ہاتھ میں ایک ایسا ہتھیار مہیا کر رہی ہیں جو انشاء اللہ بالآخران دونوں نظاموں کو مٹا کر رکھ دے گا۔وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَالِ وَالْإِكْرَامِ ۲۷ ( مطبوعه الفضل ۴ رمئی ۱۹۵۰ء)