مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 848 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 848

مضامین بشیر ۸۴۸ اسلام میں چور کی سزا انجیل کا ایک لطیف حوالہ چند دن ہوئے میرا ایک نوٹ الفضل میں اسلامی سزاؤں کے فلسفہ کے متعلق شائع ہوا تھا۔اس میں اسلامی تعزیرات کے ماتحت چور کی سزا ( قطع ید ) کا بھی ذکر تھا اور میں نے بتایا تھا کہ اول تو اسلام نے ہر چوری کی سزا ہاتھ کاٹنے کی صورت میں مقرر نہیں کی بلکہ اس کے لئے بھی بعض خاص شرطیں اور حد بندیاں لگائی گئی ہیں اور دوسرے میں نے اس بات کو واضح کیا تھا کہ اسلام جھوٹے جذبات کا مذہب نہیں ہے کہ ایک چھوٹی چیز کو بچانے کے لئے بڑی چیز کو قربان کر دے بلکہ وہ بڑی چیز کو بچانے کے لئے چھوٹی چیز کو قربان کرتا ہے اور اگر ایک فرد کے عضو کو کاٹنے سے قوم کی روح اور سوسائٹی کے اخلاق کو تباہ ہونے سے بچایا جا سکے تو اسلام اس میں ہر گز تامل نہیں کرتا اور یہی اصلاح کا صحیح اور سچا فلسفہ ہے۔اس تعلق میں مجھے انجیل کا ایک حوالہ ملا ہے۔جو دوستوں کے فائدہ کے لئے درج ذیل کرتا ہوں۔اس میں بعینہ اس نظریہ کو پیش کیا گیا ہے۔جسے اسلام پیش کرتا ہے۔حضرت مسیح ناصری فرماتے ہیں : اگر تیرا داہنا ہاتھ تجھے ٹھو کر کھلائے تو تو اس کو کاٹ کر اپنے پاس سے پھینک دے کیونکہ تیرے لئے یہی بہتر ہے کہ تیرے اعضاء میں سے ایک جاتا رہے اور تیرا سارا بدن جہنم میں نہ جائے۔“ کیا اسلامی تعلیم پر اعتراض کرنے والے مسیحی صاحبان اپنے ”خدا وند مسیح کے اس سنہری ارشاد پر غور فرمائیں گے؟ حق یہی ہے کہ اگر قوم اور سوسائٹی کی روح اور اس کے اخلاق کو بچانے کے لئے کسی ایک فرد کا ہاتھ کاٹنا پڑے تو یہ ہرگز مہنگا سودا نہیں ہے۔پس اسلامی سزاؤں پر اعتراض کرنا محض جھوٹے جذبات کا ابال ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔دراصل یہ وہی ہندوؤں والی ذہنیت ہے۔جو ایک گائے کے بدلے میں ہیں انسانوں کی جان لینے میں دریغ نہیں کرتے۔فا فهم و تدبر ( مطبوعه الفضل ۲۶ رمئی ۱۹۵۰ء)