مضامین بشیر (جلد 2) — Page 846
مضامین بشیر ۸۴۶ ( ج ) سب شہریوں کے لئے مساویانہ حقوق۔(د) غیر مسلم اقلیتوں کی مخصوص مذہبی اور جانی اور مالی اور آبرو کی حفاظت۔(۴) اقلیتوں کی حفاظت کے معاملہ میں ذیل کی باتیں خاص طور پر قابل لحاظ ہیں :- (الف) چونکہ صحیح اسلامی حکومت مذکورہ فقرہ نمبرا میں حالات پیش آمدہ کے ماتحت مذہبی اور نیم مذہبی جنگوں کا امکان رہتا ہے اس لئے ایسی حکومت کے تعلق میں اقلیتوں کے متعلق جزیہ کے مخصوص ٹیکس کا حکم دیا ہے، تا کہ جو غیر مسلم ان جنگوں سے الگ رہنا چاہیں ان کے لئے اس ٹیکس کے ذریعے رستہ کھلا ر ہے مگر دوسری قسم کی اسلامی حکومت (مندرجہ فقرہ نمبر۲ ) میں اس کا سوال پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی ایسی حکومت میں غیر مسلموں پر جزیہ لگانا جائز ہے۔(ب) جزیہ چونکہ جنگی خدمت میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے لگایا جاتا ہے۔اس لئے وہ اسلامی حکومت مندرجہ فقرہ نمبرا میں بھی ایسے غیر مسلموں پر نہیں لگایا جا سکتا جو اپنے آپ کو بخوشی جنگی خدمت کے لئے پیش کریں جیسا کہ حضرت عمر نے بعض غیر مسلم قبائل کی پیش کش پر ان کا جزیہ معاف کر دیا تھا۔( ج ) مسلمان اور غیر مسلم شہریوں کی جانیں ایک جیسی قابل حفاظت ہیں۔پس اگر کوئی مسلمان کسی غیر مسلم شہری کو قتل کر دیتا ہے تو اس کے خلاف بھی قصاص کا حکم جاری کیا جائے گا۔(د) اسلام نہ تو دین کی اشاعت کے لئے جبر کی اجازت دیتا ہے اور نہ اسے قائم رکھنے کے لئے جبر کا حامی ہے۔پس مرتد ہونے والے شخص کو قتل کی سزا کا مستحق نہیں سمجھا جائے گا بشرطیکہ وہ ویسے حکومت کا وفا دار ہو۔(۵) پاکستان نے ملک کے اس حصہ کے مسلمانوں کے لئے اپنے طریق پر زندگی گزار نے اور ترقی کرنے کا ایک بہت عمدہ موقعہ پیدا کر دیا ہے اور اب یہ ان کا کام ہے کہ اس موقعہ سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا ئیں۔بے شک شروع میں خامیاں اور کمزوریاں ہوتی ہیں لیکن اس وقت بھی پاکستان کے مسلمانوں کی عمومی بیداری دنیا کے دوسرے مسلمانوں سے بہتر اور بڑھ کر ہے۔ہیں :- (۶) اس وقت پاکستان میں خیالات و عقائد کے لحاظ سے چار فرقوں کے مسلمان پائے جاتے (الف ) حنفی فرقہ کے سنی مسلمان۔( ب ) اہل حدیث فرقہ کے سنی مسلمان (ج) شیعہ فرقہ کے مسلمان (د) احمدی مسلمان