مضامین بشیر (جلد 2) — Page 845
۸۴۵ مضامین بشیر پاکستان کی اسلامی حکومت میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کی مذہبی زندگی ایک امریکن غیر مسلم کے سوال کے جواب میں ایک غیر مسلم محقق نے جو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے شہری ہیں ہمارے ایک دوست سے پوچھا ہے کہ پاکستان کی نوزائیدہ اسلامی حکومت میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کی مذہبی زندگی پر کیا اثر پڑا ہے اور کیا پاکستان کی حکومت فی الحقیقت ایک اسلامی حکومت ہے وغیرہ ؟ اس سوال کے جواب میں جو مختصر اور اصولی نوٹ میں نے اس دوست کو لکھ کر بھجوایا ہے وہ دوسرے احباب کی دلچسپی کے لئے ذیل میں درج کیا جاتا ہے :- (۱) مذہبی رنگ میں صحیح اسلامی حکومت تو وہ تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمائی اور جو آپ کے بعد خلفاء راشدین کے زمانہ میں جاری رہی۔اس رنگ کی اسلامی حکومت خدا کے ازلی ابدی حق حکومت کی بناء پر براہ راست خدائی حکم کے ذریعہ قائم ہوتی ہے۔جیسا کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا یا وہ نبی کی وفات کے بعد بظاہر مومنوں کے اتفاق رائے سے مگر فی الحقیقت خدا کے خاص بالواسطہ تصرف کے ماتحت قائم ہوتی ہے۔جیسا کہ خلفاء راشدین کے زمانہ میں ہوا اور اس کے بعد آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق کہ میرے بعد صحیح اسلامی خلافت صرف تیں سال رہے گی ، اس رنگ کی اسلامی حکومت کا دور ختم ہو گیا۔(۲) پاکستان ان معنوں میں ضرور ایک اسلامی حکومت ہے کہ اس کی غالب اکثریت مسلمان ہے اور اسے اسلام کے بتائے ہوئے جمہوری اصولوں کے مطابق چلانے کی تجویز ہے۔(۳) اسلام کا جمہوری نظام چار بنیادی اصولوں پر قائم ہے : (الف) ایک منتخب شدہ صد رحکومت کا وجود۔( ب ) صد رحکومت کے مشورہ اور امداد کے لئے عوام کی ایک نمائندہ مجلس۔