مضامین بشیر (جلد 2) — Page 841
۸۴۱ مضامین بشیر دراصل غداری اور بغاوت کے جرموں کی سزا ہے جو ابتدائی زمانہ میں ارتداد کے ساتھ گویا لازم و ملزوم ہوتے تھے۔(مائدہ رکوع نمبر ۵) (۵) قرآن شریف میں باغیوں اور ڈاکوؤں کے لئے جو سزا ہاتھ پاؤں کے کاٹے جانے کی صورت میں مذکور ہے وہ دراصل ایسے مجرموں کے لئے ہے جو بے گناہ لوگوں کے خلاف خود اس قسم کے وحشیانہ افعال کے مرتکب ہوتے ہیں (مائدہ رکوع نمبر ۵ و بخاری قصہ عرمبین ) اور قرآن شریف اصولی طور پر فرماتا ہے کہ قصاص کے قانون میں لوگوں کے لئے زندگی کا سامان مہیا کیا گیا ہے۔( بقرہ رکوع نمبر ۲۲) (1) غالبا صرف چور کی سزا ( یعنی قطع ید ) ہی ایسی ہے جو کسی قدر تشریح کی محتاج ہے لیکن اگر ہم اسلامی نظریہ کا غور سے مطالعہ کریں تو یہ تشریح چنداں مشکل نہیں رہتی اور اس تعلق میں ذیل کے نکات خصوصیت سے قابل غور ہیں : (الف ) اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ بعض سنگین قسم کے جرموں میں جرم کی توسیع اور جرم کے تکرار کو روکنے کے لئے سخت اور قابل عبرت سزادی جائے ( سورۃ بقره رکوع نمبر ۲۲ ونور رکوع نمبر ۱ ) اس کے مقابل پر مغربی سوسائٹی کا موجودہ نظام جھوٹے جذبات سے متاثر ہو کر ایک لمبے اور نیم مؤثر طریق کو اختیار کرتا ہے اور اس طرح جرم کو روکنے کی بجائے اسے پھیلنے اور سوسائٹی کے رگ وریشہ میں سرایت کرنے میں مدد دیتا ہے۔( ب ) اسلام حسب ضرورت ایک فرد کے جسم کو سوسائٹی کی روح پر قربان کرنے میں تامل نہیں کرتا اور یقیناً یہی فطری اور معقول صورت ہے ( بقرہ رکوع نمبر ۲۱ و مائدہ رکوع نمبر ۵ ) اس کے مقابل پر مغرب کا موجودہ نظام فرد کو مؤثر طریق پر روکنے میں تامل محسوس کرتا ہے اور اس تامل کی ڈگمگاتی ہوئی روح کے ذریعہ سوسائٹی کو تباہ کر کے رکھ دیتا ہے۔حالانکہ کوئی عقلمند شخص اس بات کا انکار نہیں کر سکتا کہ ایک فرد پر رحم کرنے میں سوسائٹی اور قوم کو تباہ کر دینا ہر گز دانائی کا طریق نہیں۔یقینا یہ جذبات کے جھوٹے اظہار کا رستہ ہے اور اس رستہ کے خطرناک نتائج سے تاریخ عالم کے اوراق بھرے پڑے ہیں۔66 ( ج ) حضرت مسیح ناصری کا یہ مشہور قول بھی اس معاملہ میں صحیح نتیجہ پر پہنچنے میں اچھی مدد دیتا ہے کہ : - " درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔کیونکہ جہاں کہیں بھی اسلامی سزا کا طریق رائج کیا گیا ہے وہاں لا ز ما قلیل ترین عرصہ میں جرم کا وجود عملاً مفقود ہو گیا ہے لیکن اس کے مقابل پر دوسرے نظاموں کے ماتحت جرم عموما ترقی کرتا ہے۔یہ فرق اتنا ظاہر و عیاں ہے کہ کسی تشریح کی ضرورت نہیں۔