مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 840 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 840

مضامین بشیر ۸۴۰ اسلامی سزاؤں کا بنیادی فلسفہ ایک امریکن سیاح کے استفسار کے جواب میں گزشتہ دنوں میں ایک امریکن سیاح لاہور آئے تھے اور انہوں نے ہمارے بعض دوستوں سے مل کر اسلامی سزاؤں کے متعلق دریافت کیا کہ ان سزاؤں کا فلسفہ کیا ہے اور ایسی سخت سزائیں کیوں مقرر کی گئی ہیں ؟ ان صاحب کو خصوصاً چور کی سزا کے متعلق اعتراض تھا جس کے لئے قرآن شریف نے ہاتھ کاٹے جانے کی سزا بیان فرمائی ہے۔سو اس امریکن سیاح کے جواب میں جو مختصراً اشارات میں نے لکھ کر دیئے ، وہ دوستوں کے فائدہ کے لئے الفضل میں بھجوا رہا ہوں۔(۱) موجودہ مغربی نظام کے مقابل پر اسلامی سزاؤں کے فلسفہ کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے اس بات کی ضرورت ہے کہ تفاصیل میں جانے سے قبل دونوں نظاموں کے بنیادی نظریہ کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔اس کے بغیر اس بحث میں صحیح بصیرت پیدا نہیں ہو سکتی۔(۲) اسلام جان کے بدلے جان کا حکم دیتا ہے۔سوائے اس کے کہ مقتول کے وارث اپنی خوشی سے دیت قبول کرنا منظور کر لیں۔(سورۃ بقرہ رکوع ۲۲) اس صورت میں حکومت کا یہ فرض ہے کہ اس بات کی نگرانی کرے کہ اس معاملہ میں کسی قسم کے دھو کہ یا جبر وا کراہ کا طریق اختیار نہ کیا جائے اور قتل کی سزا کو بدلنے سے پہلے اس بات کی تسلی کر لینی بھی ضروری ہے کہ اس تبدیلی سے سوسائٹی میں نیک نتائج پیدا ہونے کی امید ہے ( شورای رکوع ۴ ) (۳) قرآن شریف میں شادی شدہ مرد زانی یا شادی شدہ عورت زانیہ کے متعلق جیسا کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے رجم یعنی سنگساری کی سزا کا کوئی ذکر نہیں۔اگر قرآن شریف کا حقیقتاً یہی منشاء ہوتا کہ شادی شدہ زانی یا زانیہ کو سنگساری کی سزادی جائے تو اس سزا کا قرآن شریف میں صراحتا ذکر ہونا چاہئے تھا۔خصوصاً جبکہ غیر شادی شدہ شخص کے تعلق میں قرآن شریف نے رجم سے کمتر سزا یعنی ڈرے لگانے کا صراحت کے ساتھ ذکر کیا ہے اور یہ ذکر بھی ایک ایسے مزعومہ واقعہ کی ضمن میں کیا ہے جو ایک شادی شدہ خاتون سے تعلق رکھتا تھا ( سورۃ نور رکوع نمبر ونمبر ۲ نیز بخاری حدیث الا فک ) (۴) اسلام میں مرتد کے قتل کی سزا کی کوئی سند نہیں جو سز ا غلطی سے مرتد کی سمجھی گئی ہے، وہ