مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 809 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 809

1+9 مضامین بشیر انفرادیت کو بھی قائم رکھا ہے اور اس کی اجتماعی زندگی کے اصول کو بھی اجاگر کیا ہے اس نے سرمایہ داری کے رستہ پر پڑ کر انسان کی اجتماعی زندگی کو مٹایا نہیں بلکہ انسانیت کے مختلف طبقوں کے درمیان پڑکہ محبت اور تعاون کا ایک وسیع رشتہ قائم کیا ہے یہ رشتہ کچھ تو حکومت کے ذریعہ قائم کیا گیا ہے اور کچھ افراد کے نیک جذبات کو ابھار کر مستحکم کیا گیا ہے۔دوسری طرف اسلام نے انسان کی انفرادی حیثیت کو بھی زندہ رکھا اور اس کے ذاتی حق کو تسلیم کیا ہے اور انسان کو اس کی دماغی طاقتوں اور اس کی ذاتی جد و جہد کے پھل سے محروم نہیں کیا۔کیونکہ یہ محرومی بالآخر انسان کی انفرادیت کو مٹا کر اسے ایک مشین یا پتھر کے بت کی شکل میں منتقل کر دیتی ہے۔در اصل نسل انسانی کی ساری ترقی ایک طرف اس کے افراد کی انفرادیت اور دوسری طرف سوسائٹی کی اجتماعیت پر منحصر ہے اور ان دونوں نقوش کے ملنے سے ہی انسانیت کا ڈھانچہ مکمل ہوتا ہے محض انفرادی ترقی انسان کو ایک اچھا جانور بنا کر رکھ دیگی اور اس سے زیادہ نہیں اور دوسری طرف محض اجتماعی ترقی انسانی سوسائٹی کو ایک ایسی مشین کی صورت میں بدل دے گی جس کے مختلف حصے دیکھنے میں تو انسان نظر آئیں گے لیکن فی الحقیقت بے حس اور بے جان پرزوں سے زیادہ نہیں ہوں گے۔اوپر کے نظریہ کے ماتحت جس کی تائید میں بیشمار قرآنی آیات اور احادیث پیش کی جاسکتی ہیں مگر یہ اس کا موقع نہیں اسلام نے ایک نہایت حکیمانہ وسطی نظام پیش کیا ہے جو دونوں طرف کی انتہاؤں سے بچتے ہوئے انسان کی انفرادیت اور سوسائٹی کی اجتماعیت دونوں کو زندہ رکھتا ہے وہ ایک طرف افراد کے انفرادی حق کو تسلیم کرتا ہے اور ان کی ذاتی جد و جہد کے پھل کو ان سے چھینتا نہیں مگر دوسری طرف وہ ان سے اپنی قوم اور اپنے غریب بھائیوں کی امداد کیلئے زیادہ سے زیادہ قربانی کرتا ہے۔یہ قربانی محض طوعی نہیں کہ جس کی مرضی ہو قربانی کرے اور جس کی مرضی ہو نہ کرے بلکہ اکثر صورتوں میں یہ قربانی جبری رنگ رکھتی ہے اور حکومت کا فرض قرار دیا گیا ہے کہ وہ امیروں کی دولت پر بھاری ٹیکس لگا کر غریبوں کی امداد کا انتظام کرے اور اس کے علاوہ کچھ حصہ طوعی قربانی کا بھی رکھا گیا ہے تا کہ سوسائٹی کے افراد میں باہم محبت اور اخلاص اور تعاون کے جذبات پیدا ہوں اور اسلام کا قانون ورثہ اور سود کی حرمت وغیرہ مزید براں ہے۔اس طرح ایک طرف تو اسلام نے افراد کے ذاتی حق کو قائم کر کے انفرادیت کو زندہ رکھا ہے اور دوسری طرف قوم اور قوم کے غریب طبقہ کی خاطر افراد سے زیادہ سے زیادہ قربانی کرا کے جس میں کچھ حصہ جبری ہے اور کچھ طوعی اجتماعی زندگی کی داغ بیل قائم کی ہے اور یہی وہ وسطی نظریہ ہے جس سے قو میں دائی زندگی پاسکتی ہیں۔ورنہ ایک انتہا کے نتیجہ میں انفرادیت مرے گی اور دوسری انتہا کے نتیجہ میں زندگی کا خاتمہ ہو جائیگا اور بالآخر دونوں کا