مضامین بشیر (جلد 2) — Page 808
مضامین بشیر ۸۰۸ اشارہ کرنا اصل مقصد ہے اور وہ بھی صرف اصول کی حد تک وماتوفيقى الا بالله العظيم- قرآن شریف مسلمانوں کے متعلق یہ اصولی نظریہ پیش فرماتا ہے کہ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شيدا 66 د یعنی اے مسلمانو! ہم نے تمہیں ہر قسم کی انتہاؤں سے بچاتے ہوئے ایک وسطی امت بنایا ہے تا کہ تم ہر دو جانب کے انتہا پسندوں پر خدا کی طرف سے نگران اور گواہ رہو اور پھر رسول کو تم پر نگران اور گواہ مقرر کیا گیا ہے۔“ یہ آیت کریمہ گو بظا ہر قرآن میں ایک اور بحث کے ضمن میں بیان کی گئی ہے لیکن جیسا کہ قرآن کا قاعدہ ہے۔یہ آیت دراصل ایک وسیع اصول کی حامل ہے اور اس میں اس نظریہ کا بیان کرنا مقصود ہے کہ قرآنی شریعت دنیا کے انتہائی نظریوں کے درمیان ایک وسطی رستہ پیش کرتی ہے ظاہر ہے کہ انسانی فطرت کچھ اس طرح پر واقع ہوئی ہے کہ وہ آہستہ آہستہ کسی نہ کسی انتہا کی طرف جھکنے لگتی ہے۔کبھی ایک طرف اور کبھی دوسری طرف آج سے کچھ زمانہ پہلے دنیا میں سرمایہ داری کا دور تھا۔جبکہ سوسائٹی کے ایک مخصوص طبقہ نے پیدا کرنے کے ذرائع کو اپنے اجارہ میں لے رکھا تھا اور ملک کا کمزور طبقہ غربت اور بے بسی کی دلدل میں پھنس کر کراہ رہا تھا اس صورت حال نے آہستہ آہستہ کمزور طبقہ میں بغاوت کے آثار پیدا کرنے شروع کئے اور نتیجہ اشتراکیت کی صورت میں ظاہر ہوا جبکہ امیروں کی دولت اورا میروں کی جائیدادیں ان سے چھین کر تمام ملک کی مشترکہ بہتری اور غریبوں کی پابحالی کے کئے حکومت کے ہاتھ میں دے دیں گئیں اور انفرادی ملکیت کا دور ختم ہوا یہ دونوں قسم کے نظریات کی انتہا تھی ایک میں سرمایہ داری اور غریب کو لوٹنے کی اور دوسرے میں لوگوں کے انفرادی حق اور انفرادی جد و جہد کو ملیا میٹ کرنے کی۔پنڈولم کے چکر کی طرح ایک نہانے ختم ہو کر دوسری انتہا پیدا کر دی مگر جس طرح سرمایہ داری ایک غیر طبعی چیز تھی اسی طرح اشتراکیت بھی ایک غیر طبعی چیز ہے اور یقیناً آج سے کچھ عرصہ کے بعد سوسائٹی میں پھر بغاوت کے آثار پیدا ہوں گے اور لوگ حکومت کے استبداد کے خلاف انفرادی حق کے حصول کے لئے چلا ئیں گے اور بعید نہیں کہ دنیا پھر دوسری انتہا کی طرف چلی جائے اور جس طرح اب ایک دلدل میں سے نکل کر دوسری دلدل میں داخل ہو رہی ہے اسی طرح آئندہ چل کر پھر سابقہ دلدل میں پھنس جائے کیونکہ جب انسان ایک ظالمانہ نظام سے بھاگتا ہے تو عموماً اس کی دہشت میں دوسری انتہا سے ورے نہیں ٹھہرتا اور اس طرح ایک دور سؤ قائم ہوتا چلا جاتا ہے۔اسلام نے مسلمانوں کوامة وسطاً کہہ کر ان دونوں انتہاؤں سے بچانے کی کوشش کی ہے اس نے انسان کی