مضامین بشیر (جلد 2) — Page 810
مضامین بشیر ۸۱۰ نتیجہ عالمگیر تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔یہ تو اسلام کے نارمل اقتصادی نظام کا مرکزی نقطہ ہے لیکن اسلام اس طرف سے بھی آنکھیں بند نہیں کرتا کہ بعض اوقات قوموں کی تاریخ میں ایسے غیر معمولی حالات پیدا ہو سکتے ہیں کہ جب قحط وغیرہ کے نتیجہ میں غریبوں کے خوراک کے ذخیرے ختم ہو جائیں اور وہ بھو کے مرنے لگیں اور امیروں کے پاس اپنی ضرورت سے زیادہ خوراک موجود ہو تو اس قسم کے حالات میں اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ سب قومی ذخیروں کو ملا کر لوگوں میں ان کی ضرورت کے مطابق تقسیم کر دو اور آنحضرت علی نے ایسا کرنے والوں کے متعلق فرمایا ہے کہ :۔" یہ لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں بالآخر میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں تو بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ آج کل اسلامی سوسائٹی میں بھی ناگوار خلیجیں پیدا ہو چکی ہیں۔ایک بے پناہ دولت میں لوٹتا پوتا ہے اور دوسرا طبقہ نان جویں تک سے محروم ہے اور اس سے بڑھ کر غضب یہ ہے کہ امیر طبقہ کے بیشتر کو ( میں سب پر الزام نہیں رکھتا ) اپنے غریب بھائیوں کی تکلیف کا احساس تک نہیں۔گویا اقتصادی خلیج بھی موجود ہے اور جذباتی خلیج بھی۔یہ صورت حال یقیناً بہت قابل اعتراض اور قابل اصلاح ہے لیکن اس کا علاج اشتراکیت میں نہیں بلکہ اسلام میں ہے۔پس جب اسلام میں ساری بیماریوں کا علاج موجود ہے تو ہمیں کیا ضرورت ہے کہ اسلام کو چھوڑ کر اشتراکیت کے سامنے ہاتھ پھیلائیں اور اسلام کو نعوذ باللہ بیٹا ثابت کرنے کے علاوہ اس پیالے کے پینے کے درپے ہو رہے ہیں ہمیں ایک زہر سے بچا کر دوسرے زہر کی طرف کھینچ رہا ہے۔اگر حکومت ان فرائض کو ادا کرے جو اسلام اس پر عائد کرتا ہے اور اگر ان فرائض کو پورا کریں جو اسلام۔۔نے ان کے ذمہ لگائے ہیں تو ہمیں خدا کے فضل سے اشتراکیت کی کھانڈ چڑھی زہر کی گولی کھانے کی ضرورت نہیں بلکہ اسلام میں ہی ہمیں دنیا کی ساری جنت مل سکتی ہے جیسا کہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں کو ملی اور انشاء اللہ پھر ملے گی۔و آخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين۔( مطبوعہ الفضل ۷ / مارچ ۱۹۵۰ء)