مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 759 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 759

۷۵۹ مضامین بشیر عورت کا خدا کی خاطر نماز پڑھنا۔اور پھر اس نماز میں ذوق نہ پیدا ہونے کی وجہ سے بے چینی محسوس کرنا یقیناً اس سلسلہ کی صداقت کی دلیل ہے۔جس کی طرف یہ خاتون منسوب ہونے کا فخر رکھتی ہیں۔لیکن اس خاتون کے خط میں ایک بات سے مجھے تکلیف بھی ہوئی۔اور وہ یہ کہ انہوں نے اپنے خط کو بسم اللہ کے مسنون طریق کی بجائے آجکل کے رواج کے مطابق ۷۸۶ کے عدد سے شروع کیا ہے یہ طریق جیسا کہ میں اپنے ایک سابقہ مضمون میں ثابت کر چکا ہوں بالکل غیر مناسب ہے کم از کم احمدی بھائی بہنوں کو جو احیاء شریعت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں کسی صورت میں مسنون اور با برکت طریق کو نہیں چھوڑ نا چاہئے۔اس کے بعد میں مختصر طور پر اصل سوال کا جواب دینا چاہتا ہوں۔سو اس تعلق میں سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ نماز کے متعلق اصل اور بنیادی بات یہ ہے کہ انسان اسے خدا کی طرف سے عائد شدہ فرض سمجھ کر ادا کرے۔ذوق اور شوق کا پیدا ہونا ایک بالکل جدا گانہ چیز ہے۔جسے فریضہ نماز کی ادائیگی کے ساتھ کوئی بنیادی تعلق نہیں۔جو شخص خدا کی خاطر نما ز پڑھتا ہے۔اور اسے ایک مقدس فرض سمجھ کر ادا کرتا ہے۔اور اس کی نماز محض عادت یا دکھاوے کی نماز نہیں ہوتی۔وہ یقیناً خدا کے حضور سرخرو ہے۔خواہ اسے نماز میں ذوق کی کیفیت پیدا ہو یا نہ ہو کیونکہ جو شخص سچی نیت کے ساتھ خدا اور اس کے رسول کا حکم بجا لائے وہ بہر حال خدا کے حضور نماز کا فرض پورا کرنے والا سمجھا جائے گا۔اور خدائے رحیم کے فرشتے اس کی اس نیکی کو محفوظ کرنے اور اس کے حق میں ایک مقدس ذخیرہ شمار کرنے سے کبھی نہیں رکیں گے۔پس پہلی بات میں اس احمدی خاتون سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر جیسا کہ ان کے خط سے ظاہر ہے۔وہ اپنی نماز واقعی خدا کی خاطر ادا کرتی ہیں تو انہیں محض اس وجہ سے ہر گز نہیں گھبرانا چاہئے کہ ان کی نماز میں ذوق کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔کیونکہ ذوق اور شوق ایک بالکل جدا گانہ چیز ہے۔جس کا فریضہ کی ادائیگی ساتھ کوئی بنیادی تعلق نہیں۔اس کی موٹی مثال یوں سمجھنی چاہئے کہ نماز ایک دوائی کا رنگ رکھتی ہے۔جو ہمارے آسمانی طبیب نے ہماری روحانی بیماریوں کے علاج کے لئے مقرر کی ہے۔پس اگر کسی شخص کو دوائی کے پینے میں مزا نہیں آتا تو نہ آئے۔دوائی بہر حال دوائی ہے۔اور بیماری کے لئے مفید اور اسے کسی صورت میں چھوڑ انہیں جا سکتا۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ ایک نوجوان حضرت خلیفہ اسیج اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور عرض کی کہ حضور مجھے نماز میں مزہ نہیں آتا۔اور نہ ہی اس میں دل لگتا ہے۔میرے لئے کیا حکم ہے؟ حضرت خلیفہ اسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے مزاج اور ذہنی کیفیت کو سمجھتے تھے فوراً فرمایا کہ:- جاؤ میاں نماز تمہارے چسکے کے لئے نہیں بنی بلکہ یہ خدا کی طرف سے ایک فرض