مضامین بشیر (جلد 2) — Page 760
مضامین بشیر ہے۔جو بہر حال ادا کرنا چاہیئے خواہ مزہ آئے یا نہ آئے۔“ اور وہ نوجوان جو نماز سے چھٹی لینے کے لئے گیا تھا سر نیچے ڈالے واپس آ گیا۔پس اصل چیز یہی ہے کہ نماز خدا کی طرف سے ہمارے لئے ایک فرض کے طور پر مقرر کی گئی ہے۔اگر اس میں مزا آئے اور ذوق و شوق کی کیفیت پیدا ہو تو بجا ورنہ بہر حال وہ ایک فرض ہے۔جو ہر صورت میں ادا ہونا چاہئے۔بلکہ میں کہتا ہوں کہ جس شخص کو نماز میں لطف نہیں آتا۔لیکن پھر بھی وہ خدا کی خاطر نماز ادا کرتا اور اس کا بندہ رہتا ہے۔وہ ایک لحاظ سے (نہ کہ من کل الوجوه ) اس شخص سے بھی زیادہ قابل قدر ہے۔جو نماز میں لطف پاتا ہے۔کیونکہ جہاں مقدم الذکر شخص کی نماز محض خدا کی خاطر ہوتی ہے وہاں موخر الذکر شخص کی نیت میں کچھ ذاتی لطف کا محرک بھی شامل ہو جاتا ہے۔اب رہا یہ سوال کہ جب شیطان بار بار نماز میں رخنہ پیدا کرتا اور وسوسہ اور اپنا خیال خیالی میں مبتلا رکھتا ہے تو پھر ایسی نماز کے پڑھنے سے کیا فائدہ ہے۔اور کیوں نہ ایسی صورت میں نماز ترک کر دی جائے ؟ سو یہ خود ایک شیطانی دھوکا ہے۔اور اس کا اصولی جواب وہی ہے جو اوپر والے نوٹ میں بیان کیا با ہے۔کیونکہ جب نماز خدا کا ایک حکم ہے تو پھر اسے شیطان کی رخنہ اندازی سے چھوڑ دینے کے معنے ہیں کہ ہم نے نعوذ باللہ شیطان کے مقابلہ میں خدا کی شکست قبول کر لی۔یعنی ہم نے خدا کے حکم سے ایک کام شروع کیا لیکن پھر شیطان کے ستانے سے ہتھیار ڈال کر بیٹھ گئے۔ظاہر ہے کہ جب شیطان کا کام ہی گمراہ کرنا اور خدا کے راستہ سے روکنا ہے تو وہ لازماً ہر قدم پر ٹھوکر کا سامان پیدا کرے گا۔لیکن انسان کا فرض ہے کہ وہ اس کا مقابلہ کرے اور برابر مقابلہ کرتا ہی چلا جائے۔خواہ اسے یہ لڑائی اپنی موت تک جاری رکھنی پڑے۔اور اگر وہ شیطان سے ڈر کر یا تنگ آکر ہتھیار ڈال دے گا تو نہ صرف خود روحانی موت کا شکار ہو گا۔بلکہ نعوذ باللہ خدا کے مقابلہ میں شیطان کی فتح قبول کرنے والا ٹھہرے گا۔پس میں اس خاتون سے کہتا ہوں کہ شیطان کی اس جنگ سے ہرگز نہ گھبراؤ بلکہ اس کے ساتھ لڑتی چلی جاؤ۔اور اگر اس مقابلہ کو موت تک جاری رکھنا پڑے تو پھر بھی ہمت نہ ہارو۔کیونکہ تمہارے لئے یہ لڑائی گویا جہاد کا رنگ رکھتی ہے اور اگر تمہاری زندگی اسی جد و جہد میں ختم ہو جائے تو پھر بھی کوئی فکر کی بات نہیں کیونکہ اگر تم نیک نیت ہو تو اس صورت میں تمہیں گویا شہادت کا درجہ ملے گا کہ تم نے خدا کے راستہ میں لڑتے ہوئے جان دی۔اور آسمان پر خدا کے فرشتے تمہیں دیکھ کر خوش ہو نگے۔اور تم پر درود بھیجیں گے کہ خدا کی اس بندی نے شیطان کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے۔اور خدا کے جھنڈے کو آخری وقت تک بلند رکھنے کے لئے لڑتی رہی۔ہاں سوچو اور سمجھو کہ اگر نماز کا حکم واقعی خدا کی طرف سے ہے تو پھر شیطان سے تنگ آ کر نماز چھوڑ دینے کے صرف یہ معنے ہونگے کہ تم نے شیطان سے ڈر کر