مضامین بشیر (جلد 2) — Page 758
مضامین بشیر ۷۵۸ وو ایک احمدی خاتون کا سوال اور اس کا جواب نماز میں بے تو جہی اور پریشان خیالی کا صحیح علاج ایک احمدی خاتون جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا ایک خط کے ذریعہ نماز میں اپنی پریشان خیالی کا ذکر کر کے اس کا علاج دریافت کرتی ہیں۔چنانچہ اس خاتون کے الفاظ یہ ہیں : مجھے ایک سخت کام کے لئے آپ کی خدمت میں عرض کرنی پڑی ہے وہ یہ کہ جب میں نماز پڑھنے لگتی ہوں تو میرا نفس اور شیطان مجھ پر یکدم حملہ کر دیتے ہیں۔اور میں طرح طرح کے خیالوں میں پھنس جاتی ہوں۔تہجد کے وقت میں بھی میرا پیچھا نہیں چھوڑتے۔دعا کرتی ہوں کہ یا اللہ میرا وجود احمدیت کے لئے ٹھوکر کا باعث نہ ہو۔کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ ایسی نماز سے کیا فائدہ چھوڑ دینی چاہئے۔۔۔دعا فرما ئیں اور کچھ ہدایت بھی ملنی چاہئے۔اس کے لئے الفضل بہتر ہے۔شائد میری طرح کوئی اور بہنیں بھی اس مرض میں مبتلا ہوں۔“ ( ایک احمدی خاتون ) اس احمدی خاتون کے سوال کا جواب دینے سے پہلے میں اس خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ با وجود اپنی موجودہ پریشان خیالی کے ہماری اس بہن کے دل میں خدا کے فضل سے دینداری کا سچا جذبہ پایا جاتا ہے اور دراصل یہی وہ نیک جذبہ ہے۔جو ان کے اس خط کا محرک بنا ہے۔ورنہ دنیا میں بے شمار مسلمان کہلانے والے لوگ ایسے ہیں جو نماز کے پاس تک نہیں پھٹکتے۔اور پھر بھی ان کے دل میں اس نعمت سے محرومی کا کوئی احساس پیدا نہیں ہوتا۔پھر بے شمار لوگ ایسے بھی ہیں جو رسمی طور پر نماز تو پڑھتے ہیں لیکن وہ نماز کے بچے ذوق سے محروم ہوتے ہیں۔اور پھر بھی انہیں کبھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ نماز کی حقیقی روح سے خالی ہیں۔لیکن اس کے مقابل پر ہماری بہن کے دل میں یہ خیال پیدا ہونا کہ گو میں پابندی کے ساتھ نماز پڑھتی ہوں اور خدا کی خاطر پڑھتی ہوں۔اور تہجد کی بھی پابند ہوں۔مگر نماز کے حقیقی ذوق سے محروم ہوں اور اسکی وجہ سے اس خاتون کے دل میں اضطراب اور بے چینی کا پیدا ہونا یقیناً اس کی قابل تعریف نیکد لی اور دینداری کی علامت ہے۔بلکہ میرے خیال میں اس خاتون کا یہ احساس بالواسطہ طور پر احمدیت کی صداقت کی بھی دلیل ہے۔کیونکہ یہ نیک جذ بہ در حقیقت احمدیت ہی کا پیدا کیا ہوا ہے کہ ہمیں اپنی عبادتوں کو بچے ذوق اور شوق کے ساتھ ادا کرنا چاہئے۔ایک