مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 756 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 756

مضامین بشیر ۷۵۶ کے اس تخم کو ایک درخت کی صورت میں قائم فرما دیتا ہے جس کے بعد یہ نظام خدا کی تقدیر عام کے ما تحت طبعی طریق پر ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔لہذا جو شخص خلافت پر معترض ہوتا یا اس سے اپنا تعلق کا متنا ہے وہ درحقیقت روحانی مرسلوں اور ماموروں کی بعثت کو ایک کھیل قرار دینا چاہتا ہے کہ گویا خدا نے نعوذ باللہ ایک کھلونا بنایا اور پھر اسے فوراً ہی کچی حالت میں ٹوٹنے پھوٹنے کیلئے غفلت میں چھوڑ دیا۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مَنْ شَدَّ شُدَّ فِي النَّارِ : یعنی جو شخص جماعت کی تنظیم سے کہتا ہے وہ خدا کی رحمت سے بھی کاٹا جائے گا۔“ پس خلافت کا نظام ( جب تک بھی وہ خدا کے علم میں مقدر ہو ) دراصل نبوت کے نظام کا تمہ اور اس کی ایک لازمی فرع اور شاخ ہے اور اس سے اپنے تعلق کو کاٹنے والا اس دھو کے میں ہرگز نہیں رہنا چاہئے کہ جڑھ اس کے پاس محفوظ ہے مگر یہ ایک جدا گانہ سوال ہے جس کے متعلق انشاء اللہ کسی اور موقعہ پر لکھنے کی کوشش کروں گا۔وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین۔مطبوع الفضل ۲۰ جنوری ۱۹۵۰ء)