مضامین بشیر (جلد 2) — Page 755
۷۵۵ مضامین بشیر ملاقاتوں کے لئے وقت نہ نکال سکتے ہوں اس لئے حضور نے وقتی خیال کے مطابق صرف چند نام چن لئے ہوں یا اس وقت حضور کو کوئی اور غیر معمولی مصروفیات ہوں اور زیادہ ملاقاتوں کی گنجائش نہ نکالی جا سکتی ہو یا کوئی اور مجبوری در پیش ہو جس کا ان صاحب کو علم نہ ہو یا کسی مصلحت سے جس کا اظہار مناسب نہ ہو حضور اس وقت نہ مل سکے ہوں وغیرہ وغیرہ۔الغرض بیسیوں قسم کے امکانات ہیں جن سے ایک حسن ظنی کرنے والا انسان تستی یا سکتا ہے لیکن اگر بالفرض اس وقت بشری لوازمات کے ماتحت جلدی میں پوری سوچ بچار کے بغیر ہی انکار ہو گیا ہو تو پھر بھی اس ذاتی اور وقتی اور جزوی بات کے نتیجہ میں یہ سوال اٹھا نا کہ پھر خلافت کے ساتھ وابستگی اور جماعت کے ساتھ منسلک رہنے کا کیا فائدہ ہے ، ہاتھی کو نگلنے اور مچھر پر تھو تھو کر نے والی بات ہے۔پانچویں بات میں ان صاحب سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کیا انہوں نے یہ قرآنی آیت کبھی نہیں پڑھی کہ : وَإِنْ قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ أَزْكَى لَكُمُ 1 یعنی اگر تم کسی شخص کی ملاقات کے لئے جاؤ اور وہ اس وقت تمہیں نہ مل سکے اور تم سے واپس لوٹ جانے کے لئے کہا جائے تو تم (برا ماننے کے بغیر واپس لوٹ جاؤ یہ تمہارے اخلاق اور باہمی تعلقات کے لئے بہت بہتر طریق ہے اور اس کے نتیجے میں تمہارے دلوں میں پاکیزگی اور طہارت کے جذبات پیدا ہو نگے۔پس اگر ہمارے یہ دوست نیکیوں کے درجے ماننے کے لئے تیار نہیں اور اپنی ضد میں ملاقات سے انکار کو خلافت سے انکار کے برابر رکھ کر تو لنا چاہتے ہیں تو کم از کم اس قرآنی آیت سے ہی فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں جو ملاقات سے انکار کو بخوشی قبول کرنے اور طہارتِ نفس کا ذریعہ بنانے کی تلقین کرتی ہے۔باقی رہا یہ خیال کہ ہم تو صرف موجودہ جماعتی تنظیم کے متعلق کہتے ہیں ورنہ احمدیت یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے انکار کو تو ہم ایک لعنت خیال کرتے ہیں۔سو یہ خیال نفس کے دھو کے سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا۔خلافت کا نظام یقیناً نظام نبوت کا تمہ اور اس کا ایک ضروری اور لازمی حصہ ہے کیونکہ خدا تعالے کی یہ سنت ہے کہ جب وہ دنیا میں کوئی عظیم الشان تغیر پیدا کرنا چاہتا ہے تو اولاً وہ ایک مامور اور مرسل کے ذریعہ ایک جماعت پیدا کر کے ایک نئے نظام کی تخم ریزی کرتا ہے اور چونکہ ایک نبی کی عمر بہر حال محدود ہوتی ہے اس لئے اس کے بدلے خدا تعالے مناسب وقت تک سلسلہ خلفاء کے ذریعہ اس نئے نظام کو اپنی تقدیر خاص کے ماتحت آہستہ آہستہ پختہ اور مضبوط کر