مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 731 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 731

۷۳۱ مضامین بشیر غالبا بیماری کی وجہ سے اس خط کی طرف توجہ نہیں دے سکے۔لیکن ظاہر ہے کہ اگر ہمیں اپنی پرائیویٹ خط و کتابت میں بسم اللہ سے برکت حاصل کرنے کی ضرورت ہے تو ایک اسلامی حکومت میں محکمانہ خط و کتابت بھی اس برکت سے محروم نہیں ہونی چاہئے اور یقینا ہم اس سنت کی طرف توجہ دے کر اپنے دفتری امور میں بھی ایک قسم کا روحانی اور اخلاقی رنگ پیدا کر سکتے ہیں۔بہر حال میں اپنے سب دوستوں سے عرض کروں گا کہ وہ اپنی تمام خط وکتابت میں آنحضرت صلى الله ہ کی سنت اختیار کریں، یعنی شروع میں بسم الله الرحمن الرحیم لکھا کریں۔اور اس کے بعد اگر کوئی مسلمان مخاطب ہو تو السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ کے الفاظ سے اپنی تحریر کو شروع کیا کریں بشرطیکہ یہ تحریر خط کا رنگ رکھتی ہو۔ورنہ صرف بسم اللہ لکھنا کافی ہوگا۔علاوہ ازیں جیسا کہ ہماری جماعت میں رواج ہے ، اگر بسم اللہ الرحمن الرحیم کے الفاظ کے ساتھ نـحــمــدہ ونصلی على رسوله الکریم کے الفاظ بھی لکھ دیئے جائیں تو یہ گویا سونے پر سہا گہ ہو گا کہ خدا کے نام کی برکت کے ساتھ رسول پر درود کی دعا بھی شامل ہو جائے گی اور میں تو اپنے عقیدہ کے مطابق نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم کے بعد و علی عبدہ المسیح الموعود کے الفاظ بھی لکھا کرتا ہوں۔لیکن یہ وہ چیز ہے جس کی ہم غیر از جماعت احباب سے توقع نہیں رکھ سکتے۔مگر بہر حال بسم الله اور نحمدہ و نصلی تو ہم سب کا مشترکہ ورثہ ہے۔اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس بابرکت ورثہ سے محرومی کا رستہ اختیار کریں۔واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين۔( مطبوعہ الفضل مورخه ۱۲۶/ نومبر ۱۹۴۹ء )