مضامین بشیر (جلد 2) — Page 730
مضامین بشیر ۷۳۰ کے بادشاہ کسریٰ نے آنحضرت علیہ کا مبارک خط غصہ میں آکر ریزہ ریزہ کر دیا ( جس کے نتیجہ میں اس کی حکومت خود ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر گئی مگر با وجود اس امکانی خطرہ کے کہ میرا خط مخالفین اسلام کے ہاتھوں میں جا رہا ہے آنحضرت ﷺ نے اپنی مبارک سنت کو ترک نہیں کیا لیکن آج کے نوجوان ہمیں رسول اللہ ﷺ کی بجائے کسری کی سنت کا رستہ دکھا رہے ہیں !! ظاہر ہے کہ ہم صرف اپنے فعل کے ذمہ دار ہیں اور اگر کوئی شخص بے حرمتی کرتا ہے تو وہ اپنے فعل کا ذمہ دار ہے۔ہم دوسرے کے امکانی فعل سے اپنے اعمال کو ایک با برکت سنت سے کیوں محروم کریں ؟ کیا ہم آنحضرت ﷺ سے بھی زیادہ با غیرت بننا چاہتے ہیں کہ جو امکانی خطرہ آپ کے رستہ میں روک نہیں بنا اسے ہم اپنے رستہ میں روک بنالیں۔اسی طرح ہمارے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بھی ہمیشہ یہی سنت رہی کہ اپنی ہر ذو بال تحریر کو بسم اللہ کے ساتھ شروع فرماتے تھے۔اور کم از کم آخری زمانہ میں جو میری زندگی سے تعلق رکھتا ہے مجھے آپ کی کوئی ایسی تحریر یاد نہیں کہ آپ نے اس سنت کو ترک کیا ہو۔تو پھر ہم اپنے دو عظیم الشان ہادیوں کی سنت کے خلاف کیوں قدم اٹھا ئیں؟ یہ خیال کہ بسم الله الرحمن الرحیم کی جگہ ۷۸۶ کا عد دلکھنا کافی ہے کیونکہ ابجد کے اصول کے مطابق بسم اللہ کے یہی اعداد بنتے ہیں، ایک لا یعنی خیال ہے۔بھلا بسم اللہ کے مبارک الفاظ کے ساتھ ۷۸۶ کے عدد کو کیا نسبت ہو سکتی ہے۔جو برکت اور جو عظمت اور جو رحمت خدائے ذوالجلال کا نام اپنے اندر رکھتا ہے اس کے متعلق خیال کرنا کہ وہ ہمارے کسی فرضی اور خیالی عدد کی طرف منتقل ہو سکتی ہے ، ایک موہوم خیال سے زیادہ نہیں، اور وقت ہے کہ مسلمان عموماً اور ہماری جماعت کے دوست خصوصاً اس غفلت کی عادت کو ترک کر کے اس راستہ پر قائم ہو جائیں جو خدا اور اس کے رسول نے ہمیں بتایا اور سکھایا ہے۔مجھے تو اس بارہ میں یہاں تک احساس ہے کہ میں نے قائد اعظم مرحوم کے آخری ایام میں جبکہ وہ کوئٹہ میں تھے ، ایک خط کے ذریعہ انہیں توجہ دلائی تھی کہ وہ پاکستان کے سرکاری دفاتر کے لئے ہدایت جاری فرمائیں کہ وہ اپنی محکمانہ خط و کتابت میں بھی ہر تحریر کے شروع میں بسم اللہ لکھا کریں۔اور جہاں مخاطب مسلمان ہو۔وہاں السلام علیکم کے الفاظ بھی ضرور لکھا کریں ( کیونکہ یہ بھی ایک رسم ہو رہی ہے کہ بعض لوگ السلام علیکم کے الفاظ ترک کر کے صرف سلام مسنون کے الفاظ پر اکتفا کرتے ہیں جو اسی طرح کی ایک نا مناسب حرکت ہے جس طرح کہ بسم اللہ کا ترک ایک نا مناسب حرکت ہے۔) بہر حال میں نے قائد اعظم مرحوم کو اس قسم کا خط لکھا تھا مگر اس کے چند دن بعد ہی وہ فوت ہو گئے اور