مضامین بشیر (جلد 2) — Page 652
مضامین بشیر ۶۵۲ اشارہ کرنے کیلئے دکھایا گیا تھا جو حضرت مسیح ناصری کے کشف میں مضمر تھی یعنی جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پانی والے کشف کی طرف اشارہ مقصود تھا کہ آئندہ میری قوم کی ترقی پانیوں پر چلنے کے نتیجے میں ہوگی وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہوا میں اڑنے والا رویا اور اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لئے دکھایا گیا تھا کہ تیری قوم کی ظاہری ترقی ہوائی فضاؤں میں پرواز کرنے کے ساتھ مقدر کی گئی ہے اور یہ جو اس رویا میں گول دائرہ پر اڑ نا دکھایا گیا ہے اس میں یہ لطیف اشارہ مخفی ہے کہ جماعت احمدیہ کی یہ ترقی سارے کرہ ارض پر وسیع ہوگی اور کسی ایک ملک یا ایک قوم تک محدود نہیں ہوگی اسی طرح اس رویا میں بعض اور اشارے بھی ہیں مگر اس جگہ ان کے ذکر کی ضرورت نہیں۔لیکن ایک لطیف اشارے کے ذکر سے میں رک نہیں سکتا اور وہ یہ کہ ہوا میں پرواز کرنے کے نظارہ میں باطنی اشارہ بھی مد نظر ہے کہ جماعت احمدیہ کی ترقی صرف مادی رنگ میں ہی نہیں ہوگی بلکہ اس ظاہری ترقی کے ساتھ غیر معمولی روحانی ترقی بھی مقدر ہے۔ظاہر ہے کہ پانی پر چلنا اپنے اندر کوئی روحانی پہلو نہیں رکھتا۔مگر ہوا میں اڑنا اپنے اندر یہ صریح اشارہ رکھتا ہے کہ یہ ظاہری پرواز روحانی ترقی کی بھی حامل ہو گی۔کیونکہ روحانی ترقی کو ہمیشہ آسمانوں میں اڑنے اور ہوائی فضاء میں بلند ہونے کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ لطیف رؤیا جس کے اندر ہی کمال حکمت سے مسیح ناصری کے پانی کے رویا کا ذکر کر دیا گیا ہے ہمیں بتاتا ہے کہ جماعت احمدیہ کی ظاہری ترقی بڑی حد تک ہوا میں اڑنے یعنی ہوائی جہازوں کے فنون کی طرف توجہ دینے کے ساتھ وابستہ ہے اور دنیا کا موجودہ قدم بھی اسی بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ قوموں کی دوڑ میں آئندہ وہی قوم آگے نکلنے والی ہے جو ہوائی جہازوں کے فن میں زیادہ کمال پیدا کرے گی۔پس میں جماعت احمدیہ کے نونہالوں سے اپیل کرتا ہوں کہ جو بچے عام صحت اور جسمانی اور دماغی قومی کے لحاظ سے ہوائی جہازوں کے فن سیکھنے کا ملکہ رکھتے ہوں وہ اس کام کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ دیں تا کہ ہم اس خدائی تقدیر کو جو ہمارے لئے مقدر ہو چکی ہے زیادہ سے زیادہ قریب لا سکیں میں اس لائن کے متعلق کوئی ٹیکنیکل علم نہیں رکھتا مگر سرسری نظر میں خیال کرتا ہوں کہ ہوائی جہازوں کے فنون مندرجہ ذیل شعبوں میں تقسیم شدہ ہیں اور ان سب کی طرف ہمارے نو جوانوں کو اپنے اپنے مذاق اور حالات اور تعلیمی قابلیت کے مطابق توجہ دینی چاہئے۔ا۔ہوائی جہازوں کی فوج یعنی امیر فورس میں بطور پائلٹ بھرتی ہونا جس کے بعد کامیاب امید واروں کو حکومت خود اپنے خرچ پر ٹرینگ دلاتی ہے۔اس کے لئے اچھے اعصاب اور چست دماغ کا ہونا ضروری ہے۔اس لائن کا نام غالباً جنرل برانچ ہے۔