مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 651 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 651

۶۵۱ مضامین بشیر ہی ہوا۔اور عیسائی قو میں اس وقت تک ترقی نہیں کر سکیں جب تک کہ وہ زمینوں کی حدود میں محصور ہو کر بیٹھی رہیں۔اور ان کی ترقی کا صرف اس وقت آغاز ہوا جبکہ انہوں نے اپنا قدم زمین سے اٹھا کر پانیوں پر رکھا اور جہاز رانی کی طرف توجہ دے کر آہستہ آہستہ اس ذریعہ سے ساری دنیا پر چھا گئیں۔یہ ایک کھلا ہوا تاریخی ورق ہے جس کی صداقت سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ پانیوں پر چلنے کے لئے پہلا قدم سپین نے اٹھایا اور اس کے بعد برطانیہ نے اس راستہ میں اس کی اتباع کی اور بالآخر اسی کے طفیل عیسائی اقوام کو وہ غلبہ حاصل ہوا جس نے کئی صدیوں تک دنیا کی نظروں کو خیرہ کئے رکھا۔چنانچہ قرآن شریف نے بھی یہ الفاظ کہہ کر کہ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ یعنی آخری زمانہ میں یا جوج ماجوج کی قومیں سمندروں کی لہروں پر ادھر ادھر دوڑتی پھریں گی۔اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔یہ تو وہ خدائی نقد ی تھی جو حضرت مسیح ناصری کے ذریعہ ظاہر ہوئی لیکن ضروری تھا کہ جب مسیح محمدی کا زمانہ آتا تو آپ کو بھی اللہ تعالیٰ اپنے کسی واضح کشف یا رؤیا کے ذریعہ وہ راستہ بتا دیتا جس کے ذریعہ جماعت احمدیہ کی جو اسلام کے دور ثانی کی علمبر دار ہے دنیا میں ترقی مقدر تھی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جس طرح حضرت مسیح ناصری کو پانیوں پر چلنے کا کشف دکھایا گیا اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہوا میں اڑنے کا نظارہ دکھا کر اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا کہ جماعت احمدیہ کی ظاہری ترقی ہوائی فضاؤں کے ساتھ مقدر ہو چکی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ : میں ہوا میں تیر رہا ہوں اور ایک گڑھا ہے مثل دائرے کے گول۔۔۔۔اور میں اس پر ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر تیر رہا ہوں۔سید محمد احسن صاحب کنارہ پر تھے۔میں نے ان کو بلا کر کہا کہ دیکھ لیجئے کہ عیسی تو پانی پر چلتے تھے اور میں ہوا پر تیر رہا ہوں۔اور میرے خدا کا فضل ان سے بڑھ کر مجھ پر ہے۔حامد علی میرے ساتھ ہے اور اس گڑھے پر ہم نے کئی پھیرے کئے نہ ہاتھ نہ پاؤں ہلانے پڑتے ہیں اور بڑی آسانی سے ادھر ادھر تیر رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا یہ رویا نہایت واضح اور اپنے لطیف اشارات میں بالکل کامل و مکمل ہے اور اسکا خاص پہلو یہ ہے کہ اس کشف کے دوران میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ایک زمین پر کھڑے ہوئے ساتھی سے فرماتے ہیں کہ دیکھ مسیح ناصری تو پانی پر چلتا تھا اور میں ہوا میں اڑتا ہوں اور مجھ پر خدا کا فضل مسیح ناصری سے بڑھ کر ہے رؤیا کے دوران میں ہی یہ الفاظ فرما ناصاف ظاہر کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا رؤیا اسی قسم کی کیفیت کی طرف