مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 653 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 653

۶۵۳ مضامین بشیر ۲۔گراؤنڈ انجینئر نگ کی لائن میں بھرتی ہونا جس میں ہوائی جہازوں کی مشینری وغیرہ سے واقفیت پیدا کرائی جاتی ہے۔۳۔ائیر وڈرو ہوں یعنی ہوائی مستلقروں کے انتظام کی لائن میں بھرتی ہونا جو غالبا ائیر ایڈ منسٹریٹو سروس کہلاتی ہے۔۴۔سول فلائنگ یعنی غیر فوجی پرواز کے لئے ٹریننگ حاصل کرنا تا کہ ملک کی مختلف ائیر لائینوں میں کام کرنے کی قابلیت پیدا ہو جائے۔ڈاک اور مسافر جہازوں کا کام اسی لائن سے تعلق رکھتا ہے۔۵۔ہوائی جہازوں اور ان کے پرزوں کے بنانے کا علم حاصل کرنا جو خاص علمی اور عملی سائنس کی مہارت چاہتا ہے۔یہ وہ پانچ موٹی موٹی لائنیں ہیں جن میں ہوائی جہازوں کا کام فی الحال تقسیم شدہ ہے۔اور ہمارے ان نوجوانوں کو جو جسمانی اور دماغی قومی اور تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے اس کام کے اہل ہوں ان سب لائنوں کی طرف حسب تعداد خاص توجہ دینی چاہئے۔شاید بعض دوستوں کو خیال ہو کہ یہ تو ایک محض دنیوی کام ہے اور ہمیں اس طرف زیادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں مگر یہ درست نہیں ہے۔کیونکہ اول تو جب ہم نے دنیا میں رہنا ہے اور دنیا کی قوموں کے ساتھ ہمیں واسطہ پڑتا ہے تو اس بات کے بغیر چارہ نہیں کہ ہم ان فنون کی طرف توجہ دیں جو دنیوی ترقی کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔علاوہ ازیں مومن کا ہر کام اس کی نیت کی بناء پر پر کھا جاتا ہے۔پس اگر ہماری نیت یہ ہو کہ ہم نے جماعت کے لئے ترقی کا رستہ کھولنا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رؤیا کو پورا کرنا ہے تو یہی کام جو بظاہر دنیوی نظر آتا ہے ہمارے لئے بھاری ثواب کا موجب بھی بن سکتا ہے۔کیا دوستوں کو یہ معلوم نہیں کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ جو مومن نیک نیت کے ساتھ اپنی بیوی کے منہ میں خوراک کا ایک لقمہ بھی ڈالتا ہے وہ اس لقمہ کی وجہ سے بھی ثواب کا مستحق ہوگا۔تو کیا پھر جماعت کی ترقی کے رستہ کو کھولنے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک اہم رؤیا کو پوری کرنے والا ثواب کا مستحق نہیں ہو گا ؟۔میرا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر احمدی نوجوان دوسرے سارے کام چھوڑ کر اسی کام کی طرف لگ جائے ایسا خیال یقیناً ایک مجنونانہ خیال ہوگا کیونکہ نہ تو سارے نو جوانوں کو اس کام سے مناسبت ہو سکتی ہے ( کیونکہ خالق فطرت نے کمال حکمت سے ہر شخص میں علیحدہ علیحد ہ مناسبت پیدا کی ہے۔) اور نہ دنیا کے دوسرے کا موں کو چھوڑا جا سکتا ہے اور خالص دینی کاموں کو تو کسی صورت میں چھوڑا جا سکتا ہی نہیں۔پس میرا مطلب صرف یہ ہے کہ جو احمدی نوجوان اس کام کی اہلیت رکھتے ہوں اور انہیں