مضامین بشیر (جلد 2) — Page 636
مضامین بشیر ۶۳۶ اوقات جب کسی بدی کے لئے کسی سوسائٹی میں عام رجحان پیدا ہو جائے اور لوگ اپنے ماحول کے اثر کے ماتحت اس کی طرف غیر معمولی رغبت اور کشش محسوس کرنے لگیں تو لوگوں کے اخلاق کی حفاظت کے لئے بعض ملتی جلتی جائز چیزوں کو بھی وقتی طور پر منع قرار دے دیا جاتا ہے اور اس میں غرض یہ مدنظر ہوتی ہے کہ تاجب ماحول کا اثر مٹ جائے اور عام رجحان ختم ہو جائے تو پھر اس وقت ان جائز چیزوں کی اجازت دے کر سوسائٹی کو اعتدال کے راستہ پر قائم کر دیا جائے۔پس جہاں تک محض مسئلہ کا تعلق ہے ، بات تو وہی ہے جو میں نے اپنے سابقہ مضمون میں بیان کی اور اس بات میں ذرہ بھر بھی کلام نہیں کہ سینما اپنی ذات میں ہرگز منع نہیں بلکہ صرف خلاف اخلاق فلموں کا دیکھنا منع ہے لیکن اگر عربوں کی شراب نوشی اور قبر پرستی کی طرح اس زمانہ میں بھی خلاف اخلاق فلموں اور سینما کی زبر دست کشش نے لوگوں کے دل ودماغ پر غلبہ پا رکھا ہے اور اس وجہ سے نظام سلسلہ کو وقتی طور پر اس بارہ میں خاص احکام دے کر نگرانی کرنی پڑی ہے تو میں اپنے نوجوانوں سے کہوں گا اور افسوس کے ساتھ کہوں گا کہ : اے بادِ صباء ایں ہمہ آورده تست یعنی اے میرے سوال کرنے والے عزیز و اور بھائیو یہ ساری پابندیاں آپ ہی کا پیدا کردہ تحفہ ہیں۔جب آپ کے دل و دماغ پر سینما کے بولتے ہوئے جادو نے ساحرانہ اثر پیدا کیا اور آپ نے بلا تمیز نیک و بد سینما کی بنی سنوری دیوی کے سامنے ماتھا ٹیک دیا تو پھر سلسلہ کیوں نہ اس بچہ کی طرح جو اپنی نادانی سے آگ کے شعلہ کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے آپ کے ہاتھوں کو جبراً روکنے کی کوشش کرتا۔خودستائی یقیناً اچھی نہیں ہوتی لیکن موقع پر بات کہنی پڑتی ہے اور میری نیت کو بھی خدا جانتا ہے کہ خودستائی غرض نہیں بلکہ لوگوں کے فائدہ کے لئے ایک حقیقت کا اظہار اصل مقصد ہے اور وہ یہ کہ اس وقت میری عمر خدا کے فضل سے ۵۶ سال کی ہے لیکن آج تک میں نے دو دفعہ سے زیادہ سینما نہیں دیکھا۔پہلی دفعہ بچپن میں حضرت خلیفہ اسیج اول رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کے ساتھ اور اپنے بڑے ماموں جان مرحوم کی معیت میں دلی میں دیکھا تھا اور دوسری دفعہ بھی حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ہی جب کہ میں کالج میں پڑھتا تھا، ایک ایسی سینما فلم دیکھی تھی جس کا انتظام کالج کے احاطہ میں ہی کالج کی طرف سے کیا گیا تھا اور یہ دونوں زمانے وہ ہیں جب کہ سینما پر کوئی پابندی نہیں تھی۔اس کے بعد وہ دن اور یہ دن آج تک کبھی سینما نہیں دیکھا اور اگر میں حافظہ کی کمزوری کی وجہ سے بھولتا ہوں تو خدا مجھے معاف کرے لیکن اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ میرے دل میں آج تک کبھی سینما د یکھنے کی خواہش پیدا نہیں ہوئی۔یہ بات نہیں کہ میرے پہلو میں دل نہیں ہے