مضامین بشیر (جلد 2) — Page 637
۶۳۷ مضامین بشیر یا یہ کہ میں جائز تفریح کی طرف سے بے حس ہوں بلکہ اس لئے کہ جو تھوڑا بہت تجربہ مجھے سینما د یکھنے سے ہوا ہے اُس نے میرے دل میں یہ خیال راسخ کر دیا ہے کہ موجودہ فلم ایک آگ کا کھیل ہے جس میں اچھے برے کی تمیز بے حد مشکل کام ہے۔پس میرے عزیز و اور بھائیو! یہ سب پابندیاں خود آپ کی اپنی لگائی ہوئی ہیں۔اپنے دل و دماغ کو درست کر لو تو نماز روزے کے احکام کی طرح غالباً نظام سلسلہ بھی اچھی اور بری فلم کا فیصلہ خود آپ پر چھوڑ دے گا۔اب رہا یہ سوال کہ موٹے طور پر بری اور ناجائز فلم کی علامتیں کیا ہیں۔سو میں اپنی سمجھ کے مطابق چند مختصر فقروں میں یہ علامتیں ذیل میں بیان کئے دیتا ہوں۔ا۔سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جس فلم میں مرد و عورت کی باہمی بے تکلفی کے مناظر کو بر ملاطور پر پیش کیا جائے مثلاً (اور یہ صرف ایک مثال ہے ) ایک مرد ایک عورت کے ساتھ فلم کے پردہ پر بوس وکنار کا طریق اختیار کرتا ہے تو ایسی فلم کا دیکھنا نا جائز اور ممنوع ہوگا۔بلکہ میرے خیال کے مطابق اگر یہ مرد و عورت خاوند بیوی بھی ہوں تب بھی اُن کی طرف سے ایسی حرکات کا بر ملا اظہار خلاف حیا اور نا جائز سمجھا جائے گا۔اس کی موٹی مثال یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ خاوند بیوی کا مخصوص جنسی تعلق ایک بالکل جائز بلکہ نسل انسانی کی ترقی کے لئے ضروری چیز ہے مگر کوئی شریف انسان ایسا نہیں ہو سکتا جو اس فعل کو برسر عام اختیار کرے اور جو ایسا کرے گا وہ یقیناً بے حیا سمجھا جائے گا۔پس اچھی فلم کی پہلی شرط یہ ہے کہ اس میں مرد و عورت کے بے تکلفانہ حرکات یعنی بوس و کنار وغیرہ کے مناظر کا عنصر موجود نہ ہو کیونکہ اس سے بے حیائی اور بداخلاقی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور اس سے شہوانی قومی کو انگیخت ملتی ہے کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ میر ا نفس ایسا ہے کہ مجھ پر ایسے مناظر کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ایسے شخص سے میں کہوں گا کہ اول تو تم دھوکا دیتے ہو ورنہ دھو کہ خوردہ ضرور ہو۔فطرت کی زور دار آبشاروں کو کون روک سکتا ہے؟ لیکن اگر بالفرض ایسا کوئی شخص موجود بھی ہو تو عقل مند انسان سمجھ سکتا ہے کہ قانون کی بنیا د عام حالات پر رکھی جاتی ہے نہ کہ مستثنیات پر۔پس بظاہر مستثنیٰ حالات رکھنے والے لوگوں کو بھی بہر حال عام قانون کے تابع رکھا جائے گا ورنہ فتنہ پیدا ہوتا ہے اور یہی دنیا بھر میں قانون سازی کا مسلمہ اصول ہے۔۲۔دوسری شرط یہ ہے جو دراصل پہلی شرط کا ہی حصہ اور شاخ ہے کہ کسی فلم میں کورٹ شپ ( یعنی نکاح سے پہلے کی بے تکلفانہ میل ملاقات ) کے مناظر پیش نہ کئے جائیں۔میں اس جگہ اس بحث میں نہیں جانا چاہتا کہ نکاح کے اصول کیا ہیں اور کیا ہونے چاہئیں۔گو اسلام تو بہر حال کورٹ شپ کے رنگ کو پسند نہیں کرتا لیکن اگر کسی کے نزدیک کورٹ شپ کا طریق جائز بھی ہو یعنی اگر نکاح سے قبل