مضامین بشیر (جلد 2) — Page 635
۶۳۵ مضامین بشیر اس کے جواب کی ضرورت پیش آتی ہے۔ایک صحیح الفطرت اور اسلام سے کچی محبت رکھنے والے انسان کے لئے بوبو ہے اور خوشبو خوشبو اور گندی چیز بہر حال گندی ہے اور اچھی چیز بہر حال اچھی ہے۔اور اسے پر کھنے اور اس کے متعلق فیصلہ کرنے میں کبھی دیر نہیں لگتی اور نہ کسی سے پوچھنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور نہ عام حالات میں کوئی شریف انسان گندی چیز کو اچھی چیز سمجھنے کا راستہ اختیار کرتا ہے۔سوائے اس کے کہ حالات غیر معمولی صورت اختیار کر لیں اور کسی سوسائٹی کا ماحول اس کی بصیرت کو ملوث کر دے۔لیکن خدا کے فضل سے ہماری کامل و مکمل شریعت نے ہمارے لئے غیر معمولی حالات میں بھی ہدایت اور روشنی کا سامان مہیا کر رکھا ہے یعنی ایسے غیر معمولی حالات میں بھی جبکہ ایک بدی کے عام ہو جانے کے نتیجہ میں عوام الناس کی نیتوں میں فتور آجاتا ہے اور لوگ بُری چیز کو اچھا قرار دینے کے لئے بہانے ڈھونے لگ جاتے ہیں۔ہماری شریعت ہمیں بے سہارا نہیں چھوڑتی۔چنانچہ حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ جب ہمارے آقا ( فداہ نفسی ) صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا کہ سوسائٹی میں شراب نے بے انتہاء غلبہ پایا ہوا ہے اور لوگوں کے ذہن آسانی کے ساتھ اس بدی سے کٹ کر دور ہونے کے لئے تیار نہیں تو آپ نے کمال دانشمندی سے شراب نوشی کو منع کرنے کے علاوہ یہ حکم بھی دے دیا کہ تم اس قسم کے برتنوں کو بھی استعمال نہ کرو تا کہ تمہارے ذہن کلی طور پر شراب نوشی کے مناظر سے کٹ جائیں اور کمزور لوگوں کے لئے ڈگمگانے اور ٹھو کر کھانے کا موقع نہ رہے۔چنانچہ صحابہ نے شراب نوشی کی حرمت کے علاوہ اس حکم پر بھی کمال دیانتداری سے عمل کیا اور ان معصوم برتنوں کے استعمال سے بھی باز آ گئے جو اپنی ذات میں ہرگز بُرے نہیں تھے مگر شراب نوشی کے ساتھ روایتی تعلق رکھنے کی وجہ سے کمزور لوگوں کے دلوں میں شراب کی خواہش بیدار کر سکتے تھے۔لیکن جب اس پر کچھ وقت گزر گیا اور لوگوں کے ذہن کلی طور پر شراب نوشی کے خیال سے کٹ گئے تو اس وقت آپ نے اعلان فرمایا کہ شراب تو بہر حال منع ہی ہے لیکن اب تم ان برتنوں کو بے شک استعمال کر سکتے ہو جن سے تمہیں روکا گیا تھا۔اسی طرح مثلاً آپ نے عرب کی شرک پرستی کو دیکھ کر شروع شروع میں اعلان فرمایا کہ مسلمان قبروں کی زیارت کے لئے نہ جایا کریں تا کہ عام مشر کا نہ رجحان کی بناء پر ان کے دلوں میں کوئی مخفی جذ بہ شرک کا پیدا نہ ہونے لگے۔لیکن جب صحابہ کا ایمان و عرفان پختہ ہو گیا تو کچھ وقت کے بعد آپ نے خود اعلان فرمایا کہ اب بے شک تم قبروں پر جاؤ اور اپنے مرنے والوں کے لئے دعا کر کے اور اپنے نفسوں میں موت کی یاد کو تازہ کر کے خود بھی فائدہ اٹھاؤ اور مرنے والی روحوں کو بھی فائدہ پہنچاؤ۔اوپر کی مثالوں سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ شریعت کا یہ بھی ایک اصول ہے کہ بعض