مضامین بشیر (جلد 2) — Page 628
مضامین بشیر ۶۲۸۔المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا کوئی فتوئی اس حصہ کے خلاف ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی اچھی سے اچھی اور مفید سے مفید فلموں کے اندر بھی لوگوں کی بدمزاقی کی وجہ سے گندے حصے شامل کر دئیے جاتے ہیں اور اس طرح اخلاق کی تباہی کا رستہ کھولا جاتا ہے۔اگر کوئی فلم خالصتاً مفید معلومات پر مشتمل ہو خواہ وہ معلومات تاریخی حقائق پر مبنی ہوں یا جغرافیائی حقائق پر مبنی ہوں یا فنونِ جنگ کے حقائق پر مبنی ہوں یا طبی حقائق پر مبنی ہوں تو یقیناً ایسی فلم نہ صرف جائز ہوگی بلکہ میرے خیال میں علمی لحاظ سے ایک نعمت ہو گی بشرطیکہ اس کے اندر خلاف اخلاق باتوں کو شامل نہ کر دیا جائے۔صدرانجمن احمدیہ نے خود ربوہ کے پہلے جلسہ سالانہ پر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کی منظوری سے فلمی تصویروں کے لئے جانے کا انتظام کیا تھا۔کیونکہ یہ جماعت کا ایک اہم تاریخی ریکا رڈ تھا اور کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ ایسی فلم کا دیکھنا کسی طرح بھی نقصان کا موجب یا اعتراض کا باعث ہو سکتا ہے۔خلاصہ یہ کہ سنیما کا دیکھنا اپنی ذات میں منع نہیں ہے اور نہ سنیما کا وجود اپنی ذات میں ناجائز ہے۔پس یقیناً اگر سنیما کی کسی فلم کو خلاف اخلاق اور خلاف حیا حصہ سے پاک رکھا جا سکے تو وہ ایک بالکل جائز بلکہ مفید چیز ہوگی۔مگر افسوس یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی خطرناک بدمزاقی اور خلاف اخلاق رجحانات نے اس مفید چیز کو گندا بنا رکھا ہے اور یہی وہ خطرہ ہے جس کی وجہ سے جماعت احمد یہ کوسنیما سے روکا جاتا ہے۔ہاں اگر کوئی فلم خالص تاریخی یا مناظر پر مشتمل ہو اور اس کے ساتھ کوئی خراب اخلاق حصہ شامل نہ کیا جائے تو اعتدال کی حد کے اندر رہتے ہوئے اسے دیکھا جا سکتا ہے اور جماعت کا کوئی فتویٰ اس کے خلاف نہیں ہے۔فانهم وتدبّر وا انما الاعمال بالنيات ( مطبوعه الفضل ۱۸ اگست ۱۹۴۹ء)