مضامین بشیر (جلد 2) — Page 622
مضامین بشیر حاصل م ۶۲۲ میرا مضمون تو ختم ہو چکا ہے لیکن ہر مضمون کا ایک حاصل مطلب ہوا کرتا ہے جو سمجھدار لوگ تو خود بخود مضمون کے مطالعہ سے اخذ کر لیا کرتے ہیں مگر عامتہ الناس کو علیحدہ نوٹ کر کے سمجھانا پڑتا ہے۔سو میں بھی اس جگہ عام لوگوں کی سہولت کے لئے اس مضمون کا حاصل مطلب درج کئے دیتا ہوں۔یہ حاصل مطلب دو مختصر فقروں میں آجاتا ہے :- اول اس مضمون کا پہلا نکتہ اور پہلا سبق یہ ہے کہ دنیا کو یہ معلوم ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ا بانی سلسلہ احمدیہ نے آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے اپنا یہ الہام شائع کیا تھا کہ میری جماعت ایک وقت تک ترقی اور مضبوطی کے رستہ پر چلتی چلے جائے گی اور لوگ اس کے غلبہ کو محسوس کریں گے۔مگر پھر اچانک ایک ایسا حادثہ پیش آئے گا جس کے نتیجہ میں سمجھا جائے گا کہ گویا یہ جماعت ترقی کے دور میں داخل ہونے کے بعد پھر کمزوری اور انتشار کے دور میں مبتلا ہوگئی ہے اور اسے کئی قسم کے خوف اور خطرات پیش آئیں گے لیکن اس کے بعد خدا تعالیٰ جلد ہی دوبارہ امن و غلبہ کا دور لے آئے گا اور ایسے رنگ میں لائے گا کہ لوگوں کے لئے حیرت کا موجب ہوگا۔پس میرے اس مضمون کا پہلا مقصد یہ ہے کہ تا دنیا کو بتایا جائے کہ جو بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے بتائی تھی اس کا ایک حصہ پورا ہو چکا ہے اور اب دنیا کو اس کے دوسرے حصہ کے پورا ہونے کا انتظار کرنا چاہیئے اور جب خدا کے فضل سے دوسرا حصہ پورا ہوگا تو تمام دنیا اس پر گواہ بن جائے گی اور لوگوں کے س خدا کے حضور الہی سلسلہ کی دعوت کو رد کر نے کا کوئی عذر باقی نہیں رہے گا۔دوم اس مضمون کا دوسرا نکتہ اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ تا جماعت کے کمزور حصہ کو ہوشیار اور بیدار کیا جائے کہ ہمارے خدا نے پہلے سے بتا رکھا تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ کمزور ایمان لوگ جماعت کی ترقی اور بحالی کے متعلق شکوک میں مبتلا ہونے لگیں گے اور قرآنی محاورہ کے مطابق خیال کرنے لگ جائیں گے کہ مَا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا - لیکن خدا پھر اپنی فوجوں کے ساتھ آئے گا اور اپنی فوق العادت قدرت کے ساتھ جماعت کو سنبھال کر پھر ترقی اور غلبہ کے رستہ پر ڈال دے گا۔