مضامین بشیر (جلد 2) — Page 621
۶۲۱ مضامین بشیر سے کس طرح ایک ویران اور تاریک کنوئیں کی تہ میں گر کر گویا ہمیشہ کے لئے ختم سمجھا گیا تھا مگر خدا نے اسے اس گری ہوئی حالت سے اٹھا کر اقبال و عروج کے کس بلند مینار تک پہنچادیا۔تو کیا یہ خدا تمہیں دوبارہ اٹھانے پر قادر نہیں ہوسکتا ؟۔اس کے بعد فرماتا ہے کہ : قدجاء وقت الفتح والفتح اقرب یعنی ایک مقدر زمانہ کے بعد فتح کا وقت آ جائے گا بلکہ فتح قریب ہے مگر افسوس کہ اکثر لوگ غور کا مادہ نہیں رکھتے اور نہ درمیانی زمانہ کو صبر کے ساتھ برداشت کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ے۔بالآخر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب مقدر فتح کا وقت آئے گا تو يَخِرُونَ عَلَى الْمَسَاجِدِ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ د یعنی اس وقت یہ شک کرنے والے لوگ جو ان مصائب کے ایام میں سمجھتے ہوں گے کہ بس اب سب کچھ ختم ہو گیا اور اب اس کمزوری اور انتشار کے بعد جماعت احمد یہ دوبارہ غلبہ نہیں پاسکتی ہاں یہی شک کرنے والے لوگ یعنی ان میں سے جن کے لئے ہدایت مقدر ہے فتح اور غلبہ کے وقت میں شرم و ندامت کے ساتھ سر جھکائے ہوئے آگے آئیں گے اور کہیں گے کہ خدایا ہم کمزوری کے عالم میں مایوس ہوکر اور تیرے وعدوں کو بھلا کر ٹھوکر کھا گئے۔تو ہماری اس غلطی کو معاف فرما اور ہم خطا کاروں کو پھر اپنی رحمت کے سایہ میں لے لے۔اس وقت وہی کچھ ہو گا جو خدا نے ازل سے مقدر کر رکھا ہے۔ولايعلمها الا المسترشدون‘ اب دیکھو کہ یہ کس قدر کامل و مکمل تصویر ہے جو خدا تعالیٰ نے شروع سے ہی اپنے دست ازل سے کھینچ کر ہمارے سامنے رکھی ہوئی ہے اور گویا آغاز سے لے کر انجام تک کا ہر نقش ایک جیتی جاگتی مورت کی صورت میں دنیا کے سامنے نصب کر دیا ہے مگر کمزور انسان ہاں نا بینا اور شکور انسان یہ تو مانتا ہے کہ خدا نے درمیانی کمزوری کے متعلق اپنا وعدہ پورا کیا مگر اس کمزوری کے بعد آنے والے غلبہ کے متعلق یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ ہمارا قادر مطلق خدا اس رحمت کے نشان کو بھی پورا کر سکتا ہے میں پھر کہوں گا کہ ما قدروا الله حق قدره ولاحول ولاقوة الا بالله العظيم۔