مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 619 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 619

۶۱۹ مضامین بشیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ الہام کسی تبصرہ کا محتاج نہیں۔اور یقیناً وہ وقت آنے والا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی کہ خدا تعالیٰ اپنی عظیم الشان قدرتوں کے ساتھ جماعت کو پھر دوبارہ غلبہ عطا کرے گا اور ان کی خوف کی حالت کو امن کی حالت سے بدل دے گا اور یقیناً اس وقت وہ لوگ جو آج اپنے ایمان کی کمزوری کی وجہ سے شکوک میں مبتلا ہو کر پوچھتے ہیں کہ یہ وقت کس طرح آئے گا اور جماعت کی کمزوری کا دور کس طرح پھر دوبارہ طاقت اور غلبہ کے دور میں بدلے گا۔وہ اپنی غلطی کا اقرار کر کے خدا کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے گریں گے اور اس بات پر ایمان لائیں گے کہ حق وہی تھا جو خدا نے بتایا اور یہ کہ ہمارے خدا کی عجیب و غریب قدرتوں کے مقابلہ پر کوئی بات بھی انہونی نہیں۔ہاں ہاں پھر دوبارہ دیکھو اور غور کرو کہ کس طرح اس مختصر سے الہام میں جو اوپر درج کیا گیا ہے اس درمیانی ابتلاء اور اس کے بعد کے غلبہ کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا گیا ہے۔گویا مصورِ قدرت کے دست ازل نے اس تصویر کی ہر نوک پلک پہلے سے اس طرح تیار کر رکھی ہے کہ تصویر کے مختصر ہونے کے باوجود اس کا کوئی چھوٹے سے چھو ٹا نقش بھی باہر نہیں رہ گیا۔چنانچہ : ا۔سب سے پہلے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ نَرُدُّ إِلَيْكَ الْكَرَّةَ الثَّانِيَةَ د یعنی ہم تیری درمیانی کمزوری کے بعد تجھے پھر دوبارہ غلبہ عطا کریں گے“ , اس عبارت میں جو’ دوبارہ غلبہ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ان میں یہ صریح اشارہ مقصود ہے کہ یہ دوبارہ آنے والا غلبہ ایک درمیانی کمزوری کے بعد آئے گا کیونکہ جب تک کوئی درمیانی زمانہ کمزوری کا زمانہ نہ ہو دوبارہ غلبہ کے الفاظ کوئی معنی نہیں رکھتے۔اور اس طرح اس مختصر سے فقرہ میں موجودہ کمزوری اور انتشار کے زمانہ کی طرف بھی اشارہ کر دیا گیا ہے یعنی پہلے ایک درمیانی زمانہ کمزوری اور انتشار کا آئے گا اور اس کے بعد پھر دوسرے غلبہ کا دور شروع ہوگا۔۲۔اس کے بعد خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ : نُبَدِّلَنَّكَ مِنْ بَعْدِ خَوفِكَ أَمْنَا یعنی ہم تیرے خوف کے زمانہ کو پھر امن کے زمانہ سے بدل دیں گے۔“ ان الفاظ میں اوپر والے الہام کی تشریح کے علاوہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ درمیانی کمزوری کا زمانہ جماعت کے لئے خوف کا زمانہ ہوگا جس میں اسے کئی قسم کے اندرونی اور بیرونی خوفوں اور خطروں سے دو چار ہونا پڑے گا مگر یہ کہ بالآخر خدا اس خوف کی حالت کو امن کی