مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 618 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 618

مضامین بشیر ۶۱۸ اور اپنے آپ کو ایمان و عرفان کی ایسی مضبوط چٹان بنائیں گے جس کے ساتھ جو شخص بھی ٹکراتا ہے وہ پاش پاش ہو جاتا ہے اور وہ جس شخص پر بھی گرتی ہے اسے ریزہ ریزہ کر کے چھوڑتی ہے۔یقیناً ایمان کو وہ طاقت حاصل ہے جو فلک بوس پہاڑوں کو تو ڑسکتی ہے اور اتھاہ پانیوں کو کاٹ سکتی ہے اور لق ودق جنگلوں کو ایک قدم واحد میں عبور کر سکتی ہے اور ہوا کو نہ نظر آنے والی فضاؤں کو اپنی تیز رفتاری کے ساتھ اس طرح طے کر سکتی ہے جس طرح نور کی کرنیں اندھیرے کی چادر کو پھاڑ کر نکل جاتی رہیں مگر کتنے ہیں جنہیں یہ ایمان حاصل ہوتا ہے۔ثُلَّةٌ مِنَ الْاَولِینَ وَ قَلِيلٌ مِّنَ الآخِرِينَ نُ۔بہر حال میں اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا صرف ایک الہام پیش کرتا ہوں۔ہمارے دوست اس الہام کے الفاظ پر غور کریں اور دیکھیں کہ کس لطیف انداز میں اور کس شان کے ساتھ آنے والے خطرات اور پھر ان خطرات سے جماعت کے طریق نجات کا ذکر کیا گیا ہے۔خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ: نَرُدْ اِلَيْكَ الْكَرَّةَ الثَّانِيَةَ وَنُبَدِّلَنّكَ مِنْ بَعْدِ خَوفِكَ أَمْناً وَقَالُوا أَنَّى لَكَ هَذَا قُلْ هُوَ اللهُ عَجِيبٌ وَلَا تَيْنَسُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ انْظُرُ إِلَى يُوسُفَ وَاقْبَالِهِ قَدْ جَاءَ وَقْتُ الْفَتْحِ وَالْفَتْحُ اَقْرَبُ يَخِرُّونَ عَلَى الْمَسَاجِدِ رَبَّنَا اغْفِرُ لَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ - یعنی ہم تجھے (ایک درمیانی کمزوری کے بعد ) پھر دوبارہ غلبہ عطا کریں گے اور تیری خوف کی حالت کو پھر امن کی حالت سے بدل دیں گے۔اور (اس درمیانی کمزوری کے زمانہ میں ) لوگ حیران ہو ہو کر پوچھیں گے کہ یہ غلبہ تجھے پھر دوسری بار کس طرح حاصل ہوگا۔تو ایسے لوگوں سے کہہ دے کہ میرا خدا عجیب وغریب قدرتوں کا مالک ہے وہ اپنی قدرت نمائی سے یہ سارا تغیر پیدا کریگا۔اور اے مرد مومن تو خدا کی رحمت اور نصرت سے کسی حال میں بھی مایوس مت ہو یوسف کی طرف دیکھ کہ وہ کس طرح ایک ویران اور تاریک کنوئیں کے گڑھے سے اٹھ کر بلند ترین اقبال کو پہونچا۔ہاں ہاں دیکھ کہ فتح کا وقت آ رہا ہے یا کہ فتح قریب ہے اس وقت جب کہ یہ مقدر فتح آئے گی شک کرنے والے لوگ اپنی سجدہ گاہوں میں گریں گے اور نادم ہو ہو کر خدا سے عرض کریں گے کہ اے ہمارے آقا ہمیں معاف فرما۔ہم بیشک غلطی پر تھے۔“