مضامین بشیر (جلد 2) — Page 620
مضامین بشیر ۶۲۰ حالت سے بدل دے گا اور امن کے لفظ میں یہ اشارہ بھی کیا گیا ہے کہ جماعت احمد یہ اپنے غلبہ کے زمانہ میں بھی ظلم کا طریق اختیار نہیں کرے گی بلکہ اندرونی امن کی حامل ہونے کے ساتھ ساتھ بیرونی امن کی بھی علم بردار ہوگی۔۳۔اس کے بعد خدا تعالیٰ نے کس لطیف پیرایہ میں وقالوا انی لک ھذا کے الفاظ کہہ کر موجودہ زمانہ کے کمزور ایمان لوگوں کا نقشہ کھینچ کر بتایا ہے کہ یہ لوگ اس درمیانی کمزوری کو دیکھ کر سمجھیں گے کہ بس اب یہ سلسلہ ختم ہو گیا ہے اور گویا اس کی شان اور ترقی کا زمانہ اس کی اٹھتی ہوئی جوانی کے ساتھ ہی اسے خیر آباد کہہ گیا ہے یہ لوگ کہیں گے کہ قادیان کی بحالی اور جماعت کا دوبارہ غلبہ ایک امر موہوم ہے۔اور تعجب یا استہزا کے رنگ میں سوال کریں گے کہ اس کمزوری اور انتشار کے بعد جماعت کو دوبارہ غلبہ کس طرح حاصل ہوگا ؟ اللہ اللہ اس زمانہ کے کمزور ایمان لوگوں کا کیسا صاف اور واضح نقشہ کھینچ کر رکھ دیا گیا ہے۔۴۔مگر اس تعجب اور استہزا کے جواب میں خدائے علیم وقد سر کس جلال کے انداز میں فرماتا ہے : قل هو الله عجيب د یعنی تم جماعت احمدیہ کے دوبارہ غلبہ کے متعلق تعجب کرتے ہو مگر اے آنکھ کے اندھو کیا تم اس بات کو بھول گئے ہو کہ خدا تعالیٰ خود تمام عجائبات کا مجموعہ ہے۔کیا وہ جو نیست سے ہست میں لاسکتا ہے اور عدم کو وجود میں منتقل کر سکتا ہے وہ ہاں وہی عجیب و غریب قدرتوں کا مالک خدا اس بات پر قادر نہیں ہوسکتا کہ بظاہر ایک کمزور جماعت کو مضبوطی اور غلبہ عطا کر دے؟ افسوس افسوس ما قدر الله حق قدره ۵۔پھر محبت اور تنبیہہ کے ملے جلے انداز میں فرماتا ہے کہ لا تيئس من روح الله انظر الى يوسف واقباله د یعنی کیا تم خدا کے اس ازلی قانون کو بھول گئے ہو کہ اس کے بندے مایوسی کا شکار نہیں ہوا کرتے بلکہ وہ بظاہر انتہائی مایوسی کے حالات میں بھی خدا کی رحمت وقدرت پر بھروسہ کر کے امید سے بھر پور رہتے ہیں تو پھر اے کمزور ایما نو تم کیوں خدا کے وعدہ پر شک کرتے اور اس کی رحمت سے مایوس ہوتے ہو؟ خبر دار خبر دار خدا کی رحمت سے جو عموماً مصائب کے گرجتے ہوئے بادلوں کی اوٹ لے کر آگے بڑھا کرتی ہے ہرگز ناامید مت ہو“ اور پھر کیسی لطیف مثال دے کر سمجھاتا ہے کہ یوسٹ کی طرف دیکھو کہ وہ اپنے بھائیوں کی سازش