مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 556 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 556

مضامین بشیر ۵۲ فان كانوا فى الهجرة سواءً فاكْبَرُهم سِنا - إِذَا كَانُوا ثَلَاثَة فَلْيَؤْمَّهُمُ اَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمُ بِالا مَامَةِ اقْرَتُهُم د یعنی اے مسلمانو! جب تم آپس میں فریضہ نماز کی ادائیگی کے لئے اکٹھے ہو ( جو اسلام میں سب سے اہم اور سب سے وقیع تر عبادت ہے ) تو اس وقت اپنا امام بنانے کے لئے صرف یہ دیکھا کرو کہ تم میں سے قرآن کا علم کس شخص کو زیادہ حاصل ہے۔پس جو شخص بھی قرآنی علم میں زیادہ ہوا سے نماز میں اپنا امام بنالیا کرو اور اگر چند آدمی علم قرآن میں برابر ہوں تو پھر ان میں سے جو شخص سنت رسول کے علم میں زیادہ ہوا سے امام بنایا کرو اور اگر چند آدمی سُنت کے علم میں بھی برا بر ہوں تو پھر ان میں سے جس شخص نے خدا کی راہ میں پہلے ہجرت کی ہوا سے امام بنایا کرو اور اگر وہ ہجرت میں بھی برابر ہوں تو پھر جو شخص عمر میں زیادہ ہوا سے اپنا امام بنایا کرو۔اور ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ نمازوں میں مسلمانوں کا امام ہر وہ شخص ہوسکتا ہے جو ان میں سے ہے اور کسی خاص طبقہ کی تخصیص نہیں مگر امامت کا زیادہ حق دار وہ شخص ہے جو دین کا زیادہ علم رکھتا ہے۔“ الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دین و دنیا کے ہر میدان میں حقیقی مساوات قائم فرما دی ہے اور سوسائٹی کی ہرنا واجب کش مکش کو جڑ سے کاٹ کر رکھ دیا ہے اور جسم اور روح دونوں کی اصلاح کی ہے اور یہ مساوات ہے جس کی نظیر یقیناً کسی دوسرے مذہب میں نہیں پائی جاتی۔اللهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَبَارِک وَسَلّم الفضل ۲۴ مئی ۱۹۴۹ء)