مضامین بشیر (جلد 2) — Page 555
بنیا درکھا کریں۔پھر دینی امور میں جزا و سزا اور انعام و الزام کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے: ۴۹ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ، وَمَنْ يَعْمَلُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهُ 6 د یعنی جو شخص بھی خواہ وہ کوئی ہو ایک ذرہ بھر بھی نیکی کرتا ہے وہ ہم سے اس کا اجر پائے گا ( اور اس کا کسی خاص طبقہ سے تعلق رکھنا اسے نیک عمل کے پھل سے محروم نہیں کر سکتا ) اور اسی طرح جو شخص بھی کوئی بدی کرتا ہے وہ اس کا خمیازہ بھگتے گا (اور اس کا کسی خاص طبقہ سے تعلق رکھنا اسے اس کی بدی کے نتیجہ سے بچا نہیں سکتا ) ۵۰ مضامین بشیر پھر فرماتا ہے: وَقَالُوا لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ كَانَ هُودًا اَوْ نَطَرَى تِلْكَ آمَانِيُّهُمْ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ د یعنی یہودی اور عیسائی لوگ دعوی کرتے ہیں کہ کوئی شخص یہود یا نصاری کے سوا جنت میں نہیں جاسکتا۔یہ لوگوں کی محض خام خیالی ہے اور ایک ہوس سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی۔تو انہیں کہہ دے کہ اگر تم اس دعوی میں بچے ہو تو کوئی دلیل لاؤ۔ہاں بے شک جس شخص نے اپنے تئیں خدا کے سپر د کر دیا یعنی اس پر سچا ایمان لایا اور پھر نیک عمل کئے تو خواہ وہ کوئی ہو خدا سے اپنا اجر پائے گا اور ایسے لوگوں کو خدا کے حضور کوئی خوف و حزن نہیں آئے گا۔“ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ نجات پانے اور قرب الہی کے حصول کے لئے صرف قومی یا رسمی رنگ میں یہودی یا عیسائی یا کسی اور مذہب کی طرف منسوب ہونا ہرگز کافی نہیں بلکہ نجات اور قرب الہی کے لئے سچا ایمان اور عمل صالح ضروری ہے۔پس جو شخص بھی یہ دو باتیں یعنی سچا ایمان اور عمل صالح اپنے اندر پیدا کرتا ہے تو پھر خواہ وہ قومی یا نسلی رنگ میں کوئی ہو وہ خدا کی طرف سے ثواب اور انعام کا مستحق ہوگا۔یہ آیت ضمناً مسلمانوں کو بھی ہوشیار کرتی ہے کہ وہ محض مسلمان کہلانے پر تسلی نہ پائیں کیونکہ خدا تعالیٰ کو خالی ناموں سے سروکار نہیں بلکہ اس کی نظر حقیقت پر ہے۔پھر دینی فرائض کی ادائیگی کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : يؤم القوم أَقْرَؤُهُمُ لكتاب الله فَإن كانوا في القرأة سواءً فَاعْلَمَهُمُ بالسُنَّة، فان كانوا فى السُنَّةَ سواءً فَا قَدَمُهُمُ هجرة،