مضامین بشیر (جلد 2) — Page 557
۵۵۷ مضامین بشیر قادیان کے متعلق حکومت کی پالیسی میں تبدیلی جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں۔قادیان میں اب بظاہر نارمل حالات پیدا ہو رہے ہیں اور ہمارے دوستوں کو نقل و حرکت کی کافی سہولت مل گئی ہے لیکن حالات کے گہرے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تبدیلی ابھی تک کسی طرح تسلی بخش نہیں سمجھی جاسکتی حقیقتا یہ تبدیلی سکھ قوم کے اقتدار کی جگہ ہند و قوم کے اقتدار کا رنگ رکھتی ہے۔جب تک سکھ قوم اور سکھ پالیسی کا غلبہ رہا۔قادیان اور اس کے ماحول میں بر ملا ظلم و تشدداور لوٹ مار کا منظر نظر آتا رہا۔لیکن اب آہستہ آہستہ اس منظر نے بدل کر ہند و اقتدار کی پالیسی کو جگہ دے دی ہے جس میں بظاہر نارمل حالات کا دور دورہ نظر آتا ہے۔اور ابتری کی بجائے م کے حالات دکھائی دیتے ہیں لیکن تنظیم کے اس ظاہری پردے کے پیچھے نقصان پہنچانے کی منتظم پالیسی نظر آرہی ہے۔چنانچہ نئے دور میں حکومت کی پالیسی نے تین ایسی باتوں کو چنا ہے جو اوپر کی تبدیلی کی طرف واضح اشارہ کر رہی ہیں۔ا۔قادیان میں یا یوں کہنا چاہئے کہ مشرقی پنجاب میں الفضل کا داخلہ حکومت مشرقی پنجاب کے حکم کے ماتحت بند کردیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اب ہمارے قادیان کے دوست حضرت امیر المؤمنین خلیفہ امسیح ایدہ اللہ کے خطبات اور جماعتی تحریکات اور احمد یہ مشنوں کی رپورٹوں وغیرہ سے کلیہ محروم ہو گئے ہیں یا بالفاظ دیگر جماعت کی مذہبی تنظیم کے مرکزی نقطہ سے بالکل کاٹ دیئے گئے ہیں۔بظاہر اس حکم کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ الفضل میں ایسی باتیں شائع ہوتی ہیں جو حکومت ہندوستان کے مفاد کے خلاف ہے۔لیکن ظاہر ہے کہ الفضل کی پالیسی میں کوئی نئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی بلکہ فسادات کے بعد سے ایک ہی پالیسی چلی آرہی ہے بلکہ حق یہ ہے کہ اب الفضل میں پہلے کی نسبت مذہبی مضامین کی طرف زیادہ توجہ ہوتی ہے۔کیونکہ یہی اس کی اصل غرض و غایت ہے اور سیاسی نوعیت کے مضامین بہت کم ہوتے ہیں باوجود ان حالات کے الفضل کا فسادات کے بعد تو جاری رہنا مگر اب آکر بند کیا جانا ، حکومت کی تبدیل شدہ پالیسی کی ایک واضح دلیل ہے۔۲۔قادیان جماعت احمدیہ کا مقدس مقام ہے اور یہ دنیا بھر کا مسلمہ اصول ہے کہ ہر قوم اپنے اپنے مقدس مقامات کی خدمت اور احترام کے لئے تحائف اور ہدایا اور مالی نذرانے بھیجا کرتی ہے اور آج تک دنیا کی کسی مہذب حکومت نے اس قسم کے مالی یا جنسی تحائف میں روک نہیں ڈالی اور اس