مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 554 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 554

مضامین بشیر ۵۵۴ اسی ضمن میں نجات اور قرب الہی کے حصول کا سوال آتا ہے۔اکثر قوموں نے دنیوی اور اخروی امور میں بھی گویا ایک اجارہ داری کا رنگ اختیار کر رکھا ہے اور ایک خاص نسلی طبقہ کو خدا کا مقرب اور نجات کا مستحق قرار دے کر باقی سب کو عملاً محجوب اور ملعون گردانا ہے جسے کبھی بھی نجات اور قرب الہی کی ٹھنڈی ہوا نہیں پہنچ سکتی۔مثلاً یہودی لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ صرف ایک اسرائیلی نسل کا انسان ہی نجات کا مستحق ہے اور باقی سب لوگ خواہ وہ کیسے ہی نیک ہوں جہنم کا ایندھن ہیں۔اسی طرح عیسائیوں نے گونسلی رنگ میں نجات کو محدود نہیں کیا ( یہ صرف موجود الوقت عیسائیوں کا حال ہے ورنہ خود حضرت مسیح نے تو غیر اسرائیلی اقوام کو کہتے کہہ کر دھتکار دیا ہے ) مگر بہت سے دینی حقوق و فرائض کو ایک خاص گروہ کے ساتھ مخصوص کر دیا ہے جسے پر لیسٹ ہڈ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے چنانچہ عیسائیوں کے متعدد دینی امور بلکہ بعض تمدنی امور بھی ایک پر لیسٹ کی وساطت کے بغیر سرانجام نہیں پاسکتے۔اسی طرح ہندوؤں نے بعض ذیلی حقوق کو صرف برہمن کا ورثہ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگ اس سے محروم ہیں۔گویا ان قوموں نے نہ صرف دوسری اقوام کو نجس اور پلید قرار دے کر دھتکار دیا ہے بلکہ خود اپنے اندر بھی دینی اور مذہبی امور میں ناگوار طبقات کا وجود تسلیم کر کے خدائی انعامات کو بعض خاص طبقوں کے ساتھ مخصوص کر دیا ہے مگر اسلام کا دامن ان سب نا پاک جنبہ داریوں کے داغ سے پاک ہے بلکہ جس طرح اس نے دنیوی حقوق میں پوری پوری مساوات قائم کی ہے اسی طرح اس نے دینی امور میں بھی انصاف اور مساوات کے ترازو کو کسی طرح جھکنے نہیں دیا۔چنانچہ اس بارے میں ایک اصولی قرآنی آیت اوپر کی بحث میں گذر چکی ہے جو یہ ہے : ۴۸ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ أَتْقَكُمْ یعنی اے لوگوسُن رکھو کہ تم میں خدا کے نزدیک زیادہ معزز اور زیادہ مقرب وہ شخص ہے جو زیادہ متقی اور زیادہ نیک اور زیادہ صالح ہے۔“ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ قرب الہی کے حصول کے معاملہ میں کسی قوم یا کسی طبقہ کی خصوصیت نہیں بلکہ سب گورے کالے بڑے چھوٹے طاقتور کمزور مرد و عورت خدا کا قرب حاصل کرنے کے معاملہ میں برابر ہیں اور آگے آنے کے لئے صرف ذاتی تقویٰ اور ذاتی نیکی کی ضرورت ہے اور ان مختصر الفاظ میں خدا تعالیٰ نے یہ ارشاد بھی کر دیا کہ جب ہم بادشاہوں کے بادشاہ ہو کر سب کو ایک نظر سے دیکھتے ہیں اور اپنا قرب عطا کرنے میں ذاتی تقوی وطہارت کے سوا کسی اور بات کا خیال نہیں کرتے تو پھر دوسروں کو بدرجہ اولیٰ یہ چاہیئے کہ ذاتی اوصاف کے سوا کسی اور بات پر اپنے انتخاب کی