مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 553 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 553

۵۵۳ مضامین بشیر ساتھ ہی مخصوص رہا ہے اور دنیا کی دوسری قومیں اس عظیم الشان روحانی نعمت سے کلی طور پر محروم رہی ہیں۔مثلاً یہودی لوگ اپنے سوا کسی دوسری قوم کو اس روحانی انعام کے حق دار نہیں سمجھتے اور اسی طرح ہندو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا کا کلام صرف آریہ ورت تک محدود رہا ہے اور کسی دوسرے ملک اور دوسری قوم نے اس سے حصہ نہیں پایا اور عملاً عیسائی قوم بھی بنی اسرائیل کے باہر کسی نبی اور رسول وغیرہ کی قائل نہیں۔الغرض جہاں دنیا کی ہر قوم اس روحانی نعمت کو صرف اپنے آپ تک محدود قرار دے رہی ہے اور کسی دوسری قوم کو اس کا حقدار نہیں سمجھتی وہاں اسلام با نگ بلند یہ تعلیم دیتا ہے کہ جس طرح خدا نے اپنی مادی نعمتوں کو ہر قوم اور ہر ملک پر وسیع کر رکھا ہے اور کسی ایک قوم یا ایک ملک کے ساتھ مخصوص نہیں کیا مثلاً اس کا سورج ساری دنیا کو روشنی پہنچاتا ہے اس کی ہوا سارے گرہ ارض کو یکساں گھیرے ہوئے ہے، اس کا پانی ساری دنیا کو سیراب کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح خدا نے اپنی روحانی نعمتوں کو بھی کسی خاص قوم یا خاص ملک تک محدود نہیں کیا بلکہ ہر قوم اور ہر ملک کو اس سے حصہ دیا ہے کیونکہ اسلام کی تعلیم کے مطابق دنیا کا خدا کسی خاص قوم یا خاص ملک کا خدا نہیں بلکہ ساری دنیا اور ساری قوموں کا خدا ہے اور وہ ایک ایسا مقسط اور عادل حکمران ہے کہ سب مخلوق کو ایک نظر سے دیکھتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے : وان مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ ۴۷ دد یعنی دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں گذری جس کی طرف خدا نے اپنی طرف سے کوئی رسول نہ بھیجا ہوتا کہ وہ انہیں ہوشیار کر کے نیکی بدی کا رستہ دکھا دے اور ترقی کی را ہیں بتا دے۔66 یہ الفاظ کیسے مختصر ہیں مگر غور کرو تو اس کے اندر روحانی اور دینی مساوات کا ایک عظیم الشان فلسفہ مخفی ہے جس نے دنیا کی ساری قوموں کو خدا کی توجہ کا یکساں حق دار قرار دے کر ایک لیول پر کھڑا کر دیا ہے اور اس خیال کو جڑ سے کاٹ کر رکھ دیا ہے کہ خدا صرف بنی اسرائیل کا خدایا آریہ ورت کا خدا ہے اور دوسری قوموں کے لئے اس کی محبت اور انصاف کی آنکھ بالکل بند ہے۔الغرض اسلام نے روحانی مساوات کے میدان میں پہلا اصول یہ قائم کیا ہے کہ کلام الہی اور نبوت ورسالت کا وجود کسی خاص قوم یا خاص ملک کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اپنے اپنے وقت میں ہر قوم اس عظیم الشان روحانی انعام سے حصہ پاتی رہی ہے کیونکہ ہر قوم خدا کی پیدا کردہ ہے اور خدا سے بعید ہے کہ ایک ظالم باپ کی طرح اپنے ایک بیٹے کو حصہ دے اور دوسرے کو ہمیشہ کے لئے محروم کر دے۔( مطبوعه الفضل ۲۳ مئی ۱۹۴۹ء)