مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 534 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 534

مضامین بشیر ۵۳۴ د یعنی تم اسامہ کی امارت پر نکتہ چینی کرتے ہو اور اس سے قبل تم اس کے باپ زید پر نکتہ چینی کر چکے ہو۔خدا کی قسم جس طرح اس کا باپ امارت کا اہل تھا اور مجھے بہت محبوب تھا اسی طرح اس کے بعد اسامہ بھی امارت کا اہل ہے اور مجھے بہت محبوب ہے۔۔" یہ اسی مبارک تعلیم کا نتیجہ تھا کہ اسلام میں ہمیشہ بظاہر ادنی ترین لوگوں نے اعلیٰ سے اعلیٰ ترقی حاصل کی اور کبھی کسی شخص کی غربت یا نسلی پستی اس کی ترقی میں روک نہیں بنی۔چنانچہ اس کی مزید مثالیں دیکھنی ہوں تو اس کتاب کے حصہ دوم کا وہ باب ملاحظہ کیا جائے جو غلامی کی بحث سے تعلق رکھتا ہے۔سوشل اجتماعوں میں برادرانہ اختلاط اس جگہ یہ سوال ہو سکتا ہے کہ عہدوں اور ذمہ واری کے کاموں کے متعلق تو بیشک اسلام نے حقیقی مساوات کی تعلیم دی ہے اور سب کے لئے ترقی کا ایک جیسا رستہ کھول دیا ہے مگر ہوسکتا ہے کہ اس انتظامی مساوات کے باوجود تمدنی مساوات اور آپس کے میل ملاقات کے بارے میں مختلف قسم کے لوگوں میں خلیج باقی رہے اور اسلام نے اس خلیج کو دور نہ کیا ہو۔سو اس کے جواب میں یا درکھنا چاہیئے کہ اسلام نے اس رخنہ کو بھی بڑی سختی کے ساتھ بند کیا ہے۔چنانچہ اس قرآنی ارشاد کے علاوہ جو اوپر گذر چکا ہے کہ سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور انہیں بھائیوں کی طرح مل کر رہنا چاہیئے۔(سورۃ حجرات رکوع ۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمدنی تعلقات کے سب سے بڑے ذریعہ اور سب سے بڑے میدان یعنی آپس کی دعوتوں اور کھانے پینے کی ملاقاتوں وغیرہ کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ : شر الطعام طعام الوليمة يدعى لها الاغنياء و يُترك الفقراء و من ترک الدعوة فقد عصى الله ورسوله_ د یعنی سب سے بری اور سب سے زیادہ قابل نفرت دعوت وہ دعوت ہے جس میں صرف امیر بلائے جائیں اور غریبوں کو نہ بلایا جائے اور جو شخص کسی بھائی کی دعوت کا انکار کرتا ہے وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے۔“ اس مبارک ارشاد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو سخت نا پسند فرمایا ہے کہ امیر لوگ اپنی دعوتوں وغیرہ میں صرف امیروں کو مدعو کریں اور غریبوں کو گویا کوئی اور جنس خیال کرتے ہوئے بھول جائیں اور اصل مساوات کی روح زیادہ تر تمدنی معاملات میں ہی بگڑنی شروع ہوتی ہے