مضامین بشیر (جلد 2) — Page 535
۵۳۵ مضامین بشیر کیونکہ اس قسم کے تمدنی معاملات کا اثر براہ راست دل پر پڑتا ہے۔اسی طرح آپ نے یہ تاکید بھی فرمائی ہے کہ اگر کوئی غریب کسی امیر کی دعوت کرے تو امیر کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اپنی امارت کے گھمنڈ میں آکر یا یہ خیال کر کے کہ غریب کے ہاں کا کھانا اس کی عادت اور مزاج کے مطابق نہیں ہوگا غریب کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دے۔چنانچہ اس قسم کی دعوتوں کا رستہ کھولنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : لَوْ دُعِيْتُ إِلى ذِرَاعٍ أَوْ كُرَّاعُ لَا جَبْتُ وَلَوْ أَهْدِيَ إِلَيَّ ذِرَاعُ أَوْ كُرَّاعُ لَقَبِلْتُ د یعنی اگر کوئی غریب شخص کسی بکری یا بھیڑ کا ایک پایہ پکا کر بھی مجھے دعوت کو بلائے " تو میں اس کی دعوت پر ضرور جاؤں گا۔“ یا در ہے کہ اس جگہ گراع کے معنی پائے کے نچلے حصہ کے ہیں جو ٹخنوں سے نیچے ہوتا ہے اور یقیناً وہ ایک ادنیٰ قسم کی غذا ہے کیونکہ مخنوں کے نیچے کا حصہ قریباً گھر ہی بن جاتا ہے۔لیکن اگر گراع کے معنی پورے پائے کے بھی سمجھے جائیں تو پھر بھی عربوں کی روایات سے یہ ثابت ہے کہ قدیم زمانہ میں عرب لوگ پائے کو اچھی غذا نہیں سمجھتے تھے۔چنانچہ عربوں میں مشہور محاورہ تھا کہ : 66 لا تطعم العبد الكراع فيطمح في الدراع - دد یعنی اپنے غلام کو پا یہ بھی کھانے کو نہ دو ورنہ وہ اس سے اوپر نظر اٹھا کر دست دوران کے گوشت کی بھی طمع کرنے لگے گا۔“ بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں اپنا ذاتی اسوہ پیش کر کے مسلمانوں کو تحریک فرمائی ہے کہ خواہ دعوت کرنے والا کتنا ہی غریب ہو اس کی دعوت کو غربت کی وجہ سے رد نہ کرو۔ورنہ یا د رکھو تمہاری سوسائٹی میں ایسا رخنہ پیدا ہو جائے گا جو آہستہ آہستہ سب کو تباہ کر کے رکھ دے گا۔( مطبوعہ الفضل ۱۷ارمئی ۱۹۴۹ء ) مجلسوں میں مل کر بیٹھنے کے متعلق بھی اسلام یہی سنہری تعلیم دیتا ہے کہ یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ اگر کوئی بڑا شخص بعد میں آئے تو کسی چھوٹے شخص کو اُٹھا کر اس کی جگہ اس کو دے دی جائے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے: انَّهُ نَهَى انَّ يُقَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ وَيَجْلِسَ فِيهِ آخَرُ وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا -