مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 533 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 533

۵۳۳ مضامین بشیر جبلہ میں سنتا ہوں کہ تم نے ایک غریب مسلمان کو تھپڑ مارا ہے اگر تم نے ایسی 66 حرکت کی ہے تو خدا کی قسم تم سے اس کا بدلہ لیا جائے گا۔“۔اس پر جبلہ جس میں غالباً ابھی تک جاہلیت والے تکبر کی رگ باقی تھی مغرور ہو کر مرتد ہو گیا۔ملکی عہدوں کی تقسیم میں مکمل مساوات عدالتی حقوق کے سوال کے بعد عہدوں اور ذمہ داریوں کی تقسیم کا سوال آتا ہے اور ایک لحاظ سے یہ سوال سب سے زیادہ اہم ہے۔سو اس کے متعلق قرآن شریف فرماتا ہے : اِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأمنتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ دد یعنی اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ قومی اور ملکی عہدوں کی تقسیم کے معاملہ میں جو خدا کے نزدیک ایک مقدس امانت کا رنگ رکھتے ہیں صرف ذاتی قابلیت اور ذاتی اہلیت کو دیکھا کرو اور جو شخص اپنے ذاتی اوصاف کے لحاظ سے کسی عہدہ کا اہل ہوا سے وہ عہدہ سپرد کیا کرو خواہ وہ کوئی ہو اور پھر اے مسلمانو ! جب تم کسی عہدہ یا ذمہ واری کے کام پر مقرر کئے جاؤ تو تمہارا فرض ہے کہ لوگوں میں کامل عدل وانصاف کا معاملہ کرو۔“ یہ زرین تعلیم ہمیشہ اسلامی حکومتوں کا طرہ امتیاز رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں بعض بظاہر ادنیٰ سے ادنیٰ لوگ ترقی کر کے عروج کے کمال تک پہنچے ہیں۔چنانچہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح آنحضرت علہ نے زید بن حارثہ کو جو ایک آزاد شدہ غلام تھے، کئی فوجی دستوں کا امیر مقرر فرمایا اور پھر زید کی وفات کے بعد آپ نے ان کے نوجوان فرزند اسامہ بن زید کو بھی ایک بڑی فوج کا امیر مقرر فرمایا جس میں بعض بڑے بڑے صحابہ شامل تھے جو قدیم دستور کے مطابق گویا عرب سوسائٹی میں پہاڑ کی طرح سمجھے جاتے تھے اور جب اس پر بعض ناسمجھ نو مسلموں میں چہ میگوئی ہوئی کہ ایک نوجوان غلام آزاد کو ایسے ایسے معمر اور جلیل القدرلوگوں پر امیر مقرر کیا گیا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت غصہ کے ساتھ فرمایا کہ: ان تطعنوا في إِمَارَتِهِ فقد كنتم تطعنون في امارة ابيه من قبلُ وايم الله ان كان لخليقالا مارة وان كان لمن احب الناس إِلَيَّ و ان هذا احب الناس الى بعدة