مضامین بشیر (جلد 2) — Page 517
۵۱۷ مضا مین بشیر لیکن <mark>ربوہ</mark> کا قیام اپنے اندر ایک خطرہ کا پہلو بھی رکھتا ہے اور وہ یہ کہ بعض لوگ غلطی سے درمیانی سیڑھی کو ہی بالائی منزل سمجھنے لگ جاتے ہیں اور یہ اندیشہ ہو سکتا ہے کہ نا عاقبت اندیش <mark>ربوہ</mark> کے مرکز کی وجہ سے قادیان کی بحالی کے لئے دعاؤں اور جد و جہد میں سست اور غافل نہ ہو جا ئیں۔اگر ایسا ہوا تو اس کی مثال ایسی ہوگی کہ گویا کوئی پیاسا گرتا پڑتا ایک چشمہ کے پاس تو پہنچ جائے مگر پھر آگے بڑھ کر اس کا پانی پینے کی بجائے اس کے کنارے کے پاس ہی بیٹھ کر وقت گزار دے۔یقیناً قادیان ہی ہمارا مستقل اور دائگی مرکز ہے اور اس کے ساتھ جماعت کی ترقی ازل سے مقدر ہو چکی ہے۔اس لئے اِنَّ الَّذِى فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ والے الہام میں خدا نے قادیان کی واپسی کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض و غایت کے ساتھ ملا کر بیان کیا ہے اور گویا ان الفاظ میں خدا تعالیٰ نے ایک رنگ میں قسم کھائی ہے کہ ہمیں تیری بعثت کی قسم ہے جو خدمت قرآن کے ساتھ وابستہ ہے کہ ہم تجھے پھر اس مرکز کی طرف واپس لے جائیں گے جو احمدیت کی ترقی اور احیاء شریعت قرآنیہ کے لئے ازل سے مقدر ہو چکا ہے۔پس اے <mark>ربوہ</mark> ! جس کے نام میں بلندی کی نیک فال ملحوظ رکھی گئی ہے ہم دو ہرے جذبات کے ساتھ تیرا خیر مقدم کرتے ہیں۔ا۔تو وہ غیر ذی زرع وادی ہے جس میں احمدیت اور اشاعت اسلام کے پودے نے اس وقت تک جب تک کہ خدا کو منظور ہونشو و نما پانا ہے اور ہمارا تجر بہ بتا تا ہے کہ خدا کی یہی سنت ہے کہ جہاں اس نے دنیوی پودوں کے لئے زرخیز اور شاداب زمینوں کو بہترین گردانا ہے وہاں روحانی پودوں کے لئے اس کی ازلی حکمت نے یہی فیصلہ کر رکھا ہے کہ وہ کم از کم ابتداء میں بظاہر بنجر وادیوں میں زیادہ پروان چڑھتے ہیں۔۲۔تو وہ صبح کا ستارہ ہے جس کے پیچھے ( بعض درمیانی امتحانوں کے باوجود ) خدا کے چمکتے ہوئے سورج کا طلوع مقدر ہے کیونکہ تو ہمارے امتحانوں کا وہ پُر اسرار مرحلہ ہے جس کے پیچھے قادیان کی بحالی کا راز مخفی رکھا گیا ہے۔پس گو ہم تیری ضرورت اور تیری قدر کو پہچانتے ہیں مگر ہمارے دل تیرے پیچھے آنے والی بھاری رحمت کے لئے بیقرار ہیں کیونکہ جیسا کہ ہمارے خدا نے فرمایا ہے وہی ہماری تقدیر کا مستقل نقش ہے۔وَآخِرُ دَعُونَا آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ( مطبوعه الفضل ۱۵ر اپریل ۱۹۴۹ء )