مضامین بشیر (جلد 2) — Page 516
مضامین بشیر ۵۱۶ زیادہ ضرورت تھی کہ ایک قائمقام مرکز جلد تر وجود میں آجائے لیکن ہر عقلمند انسان سمجھ سکتا ہے کہ لاہور میں ہمیں حقیقی مرکزیت میسر نہیں آئی اور نہ آسکتی ہے۔دراصل مرکزیت کے لئے چند بنیادی باتوں کا پایا جا نا ضروری ہے جن کے بغیر مرکزیت کا مفہوم ہرگز پورا نہیں ہوتا اور وہ باتیں یہ ہیں :- (الف) ایک امام کا وجود جس کے ہاتھ پر سب جماعت جمع ہوا اور یہ خدا کے فضل سے ہمیں ہر وقت میسر رہا ہے۔(ب) امام کے ماتحت ایسے مرکزی اداروں کا وجود جو امام کی ہدایت کے ماتحت جماعت کے مختلف کاموں کو چلانے کے لئے ضروری ہوں اور پھر ان اداروں کے لئے ضروری سامان کا مہیا ہونا۔( ج ) جماعت کا ایک مشترکہ پروگرام جس کے ماتحت تمام جماعت کی مساعی ایک واحد مرکزی نقطہ پر مرکوز رہیں۔(د) ایک ایسے مخصوص ماحول کا وجود جہاں امام اور سلسلہ کے مرکزی ادارے اکٹھے ہوکر اور اکٹھے رہ کر اپنی مخصوص تربیت اور تعلیم اور تنظیم کا پروگرام چلاسکیں اور مہمانوں کے آنے جانے اور ٹھہر نے اور درس و تدریس کی پوری پوری سہولت موجود ہو اور سلسلہ کے نو جوانوں کا ایک حصہ مرکزی تنظیم اور مرکزی تربیت میں براہ راست نشو و نما پانے کا موقع پاسکے۔یہ وہ باتیں ہیں جو ہمیں لاہور میں میسر نہیں آسکتیں اور اس کی وجہ سے جماعت کے نوجوانوں کی تربیت اور مہمانوں کی آمد ورفت کے سلسلہ اور مرکزی اداروں کے تسلی بخش کام پر بھاری اثر پڑ رہا تھا مگر ربوہ کا مرکز انشاء اللہ اس کمی کو پورا کر دے گا اور اس کے بعد ہمیں امید کرنی چاہیئے کہ وہ وقت دور نہیں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ قادیان کی بحالی کا سامان بھی مہیا فرما دے۔حق یہ ہے کہ خدائی سلسلوں کے ساتھ مرکزیت ایک لازم وملزوم چیز کا رنگ رکھتی ہے یعنی جس طرح خود خدا کا وجود دنیا کا غیر مرئی مرکزی نقطہ ہے ، اسی طرح اس کی حکیمانہ تقدیر اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اس کی قائم کی ہوئی جماعتوں کا ایک ظاہری مرکز بھی ہو جس میں وہ اپنا مخصوص ماحول اور اپنی مخصوص تنظیم قائم کر کے اپنے مخصوص پروگرام کے مطابق تبلیغ اور تعلیم وتربیت وغیرہ کا کام چلا سکیں۔دراصل قادیان سے باہر آنے پر جو سب سے زیادہ نقصان کا پہلو پیدا ہوا ہے ، وہ یہی ہے کہ اپنا مخصوص مرکز اور مخصوص ماحول میسر نہ ہونے کی وجہ سے بعض نو جوانوں بلکہ بعض پختہ عمر مگر کمزور طبیعت والے لوگوں میں بھی ایک گونہ انتشار کی کیفیت پیدا ہورہی ہے اور اسی طرح زائرین اور مہمانوں کے انتظام میں بھی مجبور افرق پیدا ہو گیا ہے۔یہ سب باتیں ایک مخصوص مرکز کو چاہتی تھیں اور الحمد للہ کہ ربوہ میں ہمیں ایسا مرکز میسر آ رہا ہے۔