مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 370 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 370

مضامین بشیر ٣٧٠ جائے تو درمیانی شکستوں میں بھی مسلمانوں کے لئے فتح مقدر ہے کیونکہ یا تو وہ فتح پاتے ہیں اور یا شہادت پا کر خدا کے اُخروی انعاموں کے وارث بن جاتے ہیں۔یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف ذیل کے قرآنی الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ : قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَا إِلَّا إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ یعنی اے رسول تو ان کافروں سے کہہ دے کہ تمہاری خواہش ہمارے متعلق خواہ کچھ ہو دو انعاموں میں سے ایک انعام بہر حال ہمارے لئے مقدر ہے یعنی یا تو ہم فتح پائیں گے اور یا شہید ہو کر خدا کے انعاموں کے وارث بنیں گے مگر تم خود سوچ لو کہ شکست کی صورت میں تمہارا کوئی ٹھکانہ نہیں۔یہ وہ بھاری نفسیاتی نکتہ ہے جو ایک مسلمان مجاہد کی ہمت کو اتنا بلند کر دیتا ہے کہ کوئی کا فراس بلندی کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتا اور ضروری ہے کہ تمام اسلامی جنگوں میں یہ نکتہ ہر مرد مجاہد کی آنکھوں کے سامنے رہے اور اس کا دل اس یقین سے معمور ہو کہ خواہ میں زندہ رہوں یا مروں بہر حال میں فتح یاب ہوں۔یہ ایمان انسان کے اندر ایک ایسی روحانی قوت بھر دیتا ہے کہ کوئی دنیا کی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔سچا مسلمان اپنے سے دس گنی طاقت پر غالب آتا ہے کیونکہ وہ جنگ کی غرض وغایت کو سمجھتا ہے: اس کے بعد قرآن شریف اس نکتہ کو لیتا ہے کہ ہر مجاہد مسلمان کو جنگ کی غرض و غایت کا پورا علم ہونا چاہئے اور اسے معلوم ہونا چاہئے کہ پیش آمدہ جنگ اس کے دین اور اس کی دنیا اور اس کے حال اور اس کے مستقبل اور اس کی ذات اور اس کی قوم پر کیا اثر رکھتی ہے۔یونہی اندھوں کی طرح کسی جنگ کی غرض وغایت اور اس کے امکانی نتائج کو جاننے اور سمجھنے کے بغیر میدان جنگ میں کود جانا ہرگز اچھا نتیجہ پیدا نہیں کرسکتا۔پس ضروری ہے کہ لڑنے والا ہر سپاہی اور ہر افسر بلکہ ملکی آبادی کا ہر فرد ہر پیش آنے والی جنگ کی غرض و غایت اور اس کے انفرادی اور اجتماعی نتائج کو اچھی طرح سمجھتا ہو کیونکہ اس بات کے سمجھ لینے کے ساتھ اس کے دل و دماغ کے اندر وہ طاقت اور وہ روشنی پیدا ہوتی ہے جو کسی اور ذریعہ سے پیدا نہیں ہوسکتی اور ایسا تفقہ رکھنے والا ایک مسلمان دس کا فروں پر غالب آ سکتا ہے کیونکہ خدا کا وعدہ ہے کہ اگر وہ سچا مومن ہوگا اور جنگ کی فقہ کو سمجھے گا تو وہ ضرور دس گنے طاقت پر